عمران خان کی تحریک کا مقصد ۔۔۔۔؟

عمران خان کی تحریک کا مقصد ۔۔۔۔؟

اس سوال سے پہلے یہ دیکھناہوگاکہ ہمارے آئین میں آرمی چیف کی تقرری میں اپوزیشن رہنما کاکوئی کردارموجود ہے؟ اس کا جواب ہے کہ آئین کے تحت صدر کا آرمی چیف کی تقرری میں کوئی کردار نہیں، اپوزیشن سے مشاورت کا بھی کہیں ذکر نہیں ہے۔گزشتہ روزصدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی نے لاہورمیں صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے کہاہے کہ چیف آف آرمی سٹاف کی تعیناتی پر آئین مشاورت کی اجازت نہیں دیتا لیکن تعیناتی پر مشاورت ہوجائے تو کوئی مضائقہ نہیں ہے۔جہاں تک اس معاملے پرمشاورت کی بات ہے تویہ ایک غلط روایت ہوگی حکومت کواس کی ریت نہیں ڈالناچاہیے کہ سڑک پربیٹھے ایک شخص سے اس تعیناتی کے لیے غیرآئینی مشاورت کی جائے۔اگرآج یہ ریت پڑگئی توکل کوئی بھی گروہ اپناجتھالے کراسلام آبادپرچڑھ دوڑے گا اوراپنی پسندکے آرمی چیف کی تعیناتی کامطالبہ کرے گا اوریوں فوج کوسیاست زدہ کرنے کی کوشش کرے گا۔یہ ملکی سلامتی کے اہم ترین ادارے کے خلاف سازش ہے اورعمران خان ملکی معیشت کوتباہ،سیاست کوپراگندہ کرنے کے بعداب فوج ان کے نشانے پرہے۔

سوال یہ ہے کہ عمران آخر آرمی چیف کی تقرری پرسیاست کیوں کررہے ہیں؟سب سے پہلی بات یہ ہے کہ عمران خان جانتے ہیں کہ وہ فوج کے بغیرایک دن بھی نہیں چل سکتے۔2008ء سے اپریل 2022تک عمران خان کی آبیاری کی گئی بیساکھیوں کے سہارے انہیں چلایاگیا،2014میں مقتدرہ کی چھتری تلے انہوں نے ڈی چوک میں تماشالگایا۔ثاقب نثارسے سے صادق وامین کے جعلی سرٹیفکیٹ دلائے گئے، میڈیا میں مہاتما کابت تراشا گیا غرض ان کی بھرپورسرپرستی کی گئی۔ وہ چارسال مقتدرہ کے سہارے پرحکومت کرتے رہے جس کااعتراف وہ کئی بارکرچکے ہیں۔سینٹ الیکشن ہویاچیئرمین سینٹ کاانتخاب،کوئی بل پاس کرانا ہو یا کوئی قرارداد، یہ سب زورذبردستی چلتارہا۔ان کی طرف سے بولاگیا،،ون پیج،،کاجملہ اب زبان زدعام ہوچکاہے۔گزشتہ سال جب فوج نے عمران خان کے مذموم عزائم کوبھانپ کران سے علیحدگی اختیارکی اورچھ ماہ پہلے جب عمرانی حکومت کے خلاف عدم اعتمادکی تحریک پیش ہوئی تو اسٹیبلشمنٹ کے نیوٹرل ہونے سے ان کادھڑن تختہ ہوگیا۔ان کاجعلی اقتدارآئینی طریقے سے ختم ہوگیا۔اوروہ  اسٹیبلشمنٹ کے بغیروہ ایک دن بھی نہیں چل سکے۔جس کے بعدان کے اوسان خطاہوگئے۔ آگے انہیں اندھیراہی اندھیرانظرآرہاہے اس لیے ان کاخیال ہے کہ وہ اپنی پسندکاآرمی چیف لگوالیں توشایدانہیں پھراقتدارمل جائے۔

یہ بات اب تواترکے ساتھ ثابت ہوچکی ہے کہ عمران نیازی اپنے اقتدارکی دس سے پندرہ سالہ منصوبہ بندی کرچکے تھے ان کاخیال تھا کہ اپنی پسندکے آدمی کوآرمی چیف لگاکرآئندہ الیکشن میں بھی کامیابی حاصل کریں گے اوراگرزیادہ شورمچاتووہ صدارتی نظام قائم کردیں گے مگرجب ان کے منصوبوں اورامیدوں پرپانی پھرگیاتووہ فوج اوراس کے اعلی افسران کے خلاف میدان میں آگئے کبھی وہ  اداروں کے نیوٹرل ہونے کو برا کہتے ہیں، کبھی ریاستی اداروں کے خلاف اعلانِ جنگ کرتے ہیں، تو کبھی ملکی سلامتی کے اداروں کے سربراہوں کے خلاف سوشل میڈیا ٹرینڈز چلواتے ہیں۔

ایک طرف تو عوامی سطح پر ملکی اداروں اور سیاستدانوں پر تنقیدکرتے تودوسری طرف اندرون خانہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بیک چینل مذاکرات بھی کرتے ہیں،ان کے پاؤں پڑتے ہیں ان کی منتیں ترلے کرتے ہیں جب ان کی بات نہیں مانی جاتی تووہ  اسٹیبلشمنٹ اور ملکی سلامتی کے حساس ترین اداروں کے خلاف جھوٹ پرمبنی مہم شروع کردیتے ہیں اورریاستی اداروں کے خلاف عوام کوبھڑکاتے ہیں۔ان کی اس تمام ترجدوجہدکاایک ہی مقصدہے کہ فوج ان کی دوبارہ سے سرپرستی شروع کردے۔ماضی میں ایساکبھی نہیں ہواکہ کسی سیاسی جماعت نے آرمی چیف کی تقرری کواس طرح اوراس اندازمیں متنازع بنانے کی کوشش کی ہو۔

آج عمران خان میرٹ کے خوش نمانعرے کی آڑمیں آرمی چیف کی تقرری کی بات کرکے عوام کودھوکہ دے رہے ہیں ان کے دورحکومت میں جس طرح میرٹ کی د ھجیاں اڑائیں گئیں یاان کی صوبائی حکومتیں اڑارہی ہیں اس کی تومثال ہی نہیں ملتی وہ کس منہ سے میرٹ کی بات کررہے ہیں۔آرمی چیف کی تقرری کاآئین میں جوطریقہ کارہے اس کے مطابق نئے چیف کاتقررہوگا اس میں خان صاحب کومسئلہ کیا ہے؟ وہ کیوں اس تقرری کے لیے اپنا زور لگا رہے ہیں اس کے پیچھے رازکیاہے؟ اس وقت عمران خان نے اپنا تمام ترسیاسی بیانیہ آرمی چیف کی تعیناتی سے منسلک کردیاہے۔سائفرکہانی،امریکی غلامی اورنئے الیکشن کے نعرے پس منظرمیں چلے گئے ہیں۔عمران خان کانومبرمیں لانگ مارچ اس بات کی غمازی کرتاہے کہ وہ صرف آرمی چیف کی تقرری پرسیاست کررہے ہیں،وہ اپنی پسندکے آرمی چیف کی تعیناتی سے زیادہ نئے  چیف کی تقرری کومتنازع بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔اس سے ان کا مقصد فوج کوکمزورکرنااوران میں تقسیم پیدا کرنا ہے یہ ان کے عالمی سہولت کاروں کاایجنڈہ ہے۔