امریکا نے ایران کے خلاف سعودی عرب اور عراق کا مشترکہ اتحاد بنانے کا فیصلہ کر لیا

امریکا نے ایران کے خلاف سعودی عرب اور عراق کا مشترکہ اتحاد بنانے کا فیصلہ کر لیا

ریاض:امریکی وزیرخارجہ ریکس ٹیلرسن نے سعودی عرب اور عراق کے درمیان کورڈی نیشن کمیٹی کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کر کے خطے میں ایران کے بڑھتے اثر رسوخ کو روکنے کے ٹرمپ انتظامیہ کے عزائم کا عملی آغاز کردیا۔ریکس ٹیلرسن سعودی عرب کے دورے پر گزشتہ روز ریاض پہنچے جہاں انھوں نے سعودی فرمانروا سلمان اور عراقی وزیراعظم حیدرالعبادی کے ساتھ سعودی عرب اور عراق کی کوآرڈی نیشن کمیٹی کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کی۔


انھوں نے اجلاس میں شامل رہنماوں کو تعلقات کی اہمیت کو نمایاں کرتے ہوئے دونوں ممالک کو آپس میں تعاون بڑھانے پر زور دیا۔

امریکی وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ 'دونوں ممالک نے ہماری امیدوں کے مطابق رابطوں کا عملی طور پر آغاز کردیا ہے اور امید ہے کہ موجودہ مسائل کے حل کے لیے تعاون کو مزید بڑھائیں گے۔

دونوں ممالک کے رہنماوں کو مخاطب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ 'سعودی عرب اور عراق کے درمیان بہتر ہوتے تعلقات ہماری سیکیورٹی کو بہتر کرنے، استحکام اور وسیع مفاد کے حصول کے لیے اہم ہوں گے۔

عراق کے وزیراعظم حیدرالعبادی کا کہنا تھا کہ 'ہم پرعزم ہیں اور ماضی کو چھوڑ کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں اور خطہ مزید کسی قسم کی تقسیم کا متحمل نہیں ہوسکتا ہے جبکہ ریاست کے اندرونی معاملات پر مداخلت کو روکنا چاہیے'۔