میانمار کی حکومت کو روہنگیا مسلمانوں کو ہر صورت واپس بلانا ہوگا:سشما سوراج

میانمار کی حکومت کو روہنگیا مسلمانوں کو ہر صورت واپس بلانا ہوگا:سشما سوراج

ڈھاکہ: بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے کہا ہے کہ ایشیا کے سب سے بڑے بحران سے نمٹنے کے لیے میانمار   کی حکومت کو روہنگیا مسلمانوں کو ہر صورت واپس بلانا ہوگا۔


بنگلہ دیشی میڈیا کے مطابق بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد سے ملاقات کے دوران بھارتی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ میانمار کو روہنگیا مسلمانوں کو واپس اپنے وطن میں بلانا چاہیے، بنگلہ دیش پر یہ ایک بہت بڑا بوجھ ہے، وہ اسے کب تک برداشت کرے گا؟ اس مسئلے کا کوئی مستقل حل ہونا چاہیے۔

قبل ازیں سشما سوراج نے بنگلہ دیشی ہم منصب محمود علی سے ملاقات کے دوران تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پناہ گزینوں نے انسانی حقوق کی تنظیموں کو بتایا کہ میانمار کی فوج نے نسل کشی کی مثال قائم کی، عورتوں کی عصمت دری کی گئی اور پورے کے پورے گاوں جلا دیئے جن کی وجہ سے روہنگیا مسلمانوں کو ہجرت کرنی پڑی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ان مہاجرین کی فلاح کے لیے اس معاملے کو بہت ہی سنجیدگی سے حل کرنا چاہیے۔سشما سوراج کا مزید کہا تھا کہ روہنگیا مسلمانوں کی میانمار میں الگ شناخت کے لیے بھارت ان کی مدد کے لیے تیار ہے، جبکہ رخائن کی معاشی بحالی بھی اس معاملے کا حل ثابت ہو سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے خیال میں اس مسئلے کا واحد دیرپا حل سماجی و معاشی اور انفراسٹرکچر کی تعمیر ہی ہے جس سے ریاست کے ہر طبقے کے لوگوں پر ایک مثبت اثر پڑے گا۔

اس موقع پر بنگلہ دیشی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت کو بھی میانمار حکومت پر دباو بڑھانا چاہیے تاکہ روہنگیا بحران کے لیے امن کا راستہ نکل سکے۔محمود علی نے کہا کہ بھارت کا روہنگیا بحران کو حل کرنے کے لیے یہ قدم چین کی میانمار حکومت کی حمایت کی پالیسی پر گہرا اثر ڈالے گی۔خیال رہے کہ چین کی حکمراں جماعت کمیونسٹ پارٹی کے حکام نے کہا تھا کہ امن و استحکام کی بحالی کے لیے چین دیگر ممالک کی طرح میانمار حکومت کے اقدامات کے خلاف نہیں جائے گا۔

پارٹی کے نائب وزیر برائے انٹرنیشنل ڈپارٹمنٹ کا روہنگیا باغیوں کی جانب سے میانمار فورسز پر حملوں کے حوالے سے کہنا تھا کہ بیجنگ پرتشدد واقعات کی مذمت کرتا ہے اور امن کی بحالی کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کی پشت پناہی کرتا رہے گا۔

نیوویب ڈیسک< News Source