بھارت کی سب سے بڑی تحقیقاتی ایجنسی سی بی آئی میں سرد جنگ شدت اختیار کر گئی

بھارت کی سب سے بڑی تحقیقاتی ایجنسی سی بی آئی میں سرد جنگ شدت اختیار کر گئی
image by facebook

ممبئی :بھارت کی اعلٰی ترین تفتیشی ایجنسی سنٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن (سی بی آئی) میں جاری داخلی جنگ مزید شدت اختیار کرگئی ہے اور حالات کو سنبھالنے کے لیے وزیر اعظم کو مداخلت کرنا پڑ ی ہے۔سی بی آئی میں جار ی اس جنگ سے جہاں اس کی ساکھ بری طرح متاثر ہ ورہی ہے وہیں اس نے اپوزیشن جماعتوں کو مودی حکومت کے خلاف حملہ کرنے کا ایک موقع فراہم کردیا ہے۔


1941میں قائم ہونے والی بھارت کی سب سے اہم تفتیشی ایجنسی سی بی آئی پر یو ں تو پہلے بھی انگلیاں اٹھتی رہی ہیں لیکن یہ پہلا موقع ہے جب اس ایجنسی کے دو اعلی ترین افسران ڈائریکٹر آلوک ورما اور اسپیشل ڈائریکٹر راکیش استھانا نے ایک دوسرے پر بدعنوانی اور رشوت خوری کے الزامات لگائے ہیں۔ اس پورے معاملے میں ایجنسی کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس رینک کے ایک افسر دیویندر کمار کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

جب کہ سی بی آئی نے خود اپنے اسپیشل ڈائریکٹر استھانا کے خلاف بدعنوانی کا کیس درج کرایا ہے اور بتایا جارہا ہے کہ انہیں بھی کسی وقت گرفتار کیا جاسکتا ہے۔ دوسری طرف استھانا نے بھی اپنے باس آلوک ورما پر رشوت خوری کے ایک درجن سے زائد معاملات درج کرائے ہیں۔ اس دوران سی بی آئی کے مختلف افسران کے ٹھکانوں پر چھاپے بھی مارے گئے۔

چونکہ سی بی آئی وفاقی وزارت داخلہ کے تحت آتا ہے اس لیے تازہ ترین صورت حال کی وجہ سے نریندر مودی حکومت پریشانیوں میں گھر گئی ہے۔ اس نے معاملہ سنبھالنے کی کوشش میں سی بی آئی کے دونوں اعلٰی افسران کو وزیر اعظم کے دفتر (پی ایم او) میں طلب کیا اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال کو اس معاملے کو سلجھانے کے کام پر لگایا گیا تاہم ابھی تک یہ معاملہ حل نہیں ہوسکا ہے اور آئندہ چند دنوں میں اس میں مزید شدت پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے لیکن اس کا سب سے خراب اثر ایک غیر جانبدار اور آزاد ایجنسی کے طورپر سی بی آئی کے امیج پر پڑ رہا ہے۔