دھمکیوں کے باوجود مہاتیر محمد کشمیریوں کی حمایت میں ڈٹ گئے

دھمکیوں کے باوجود مہاتیر محمد کشمیریوں کی حمایت میں ڈٹ گئے
اقوام متحدہ سے کشمیر پر اپنی قراردادوں پر عمل درآمد کرنے کا مطالبہ بہت سوچ سمجھ کر کیا تھا، مہاتیر محمد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فوٹو/ ملائیشین میڈیا

کوالا لمپور: وزیراعظم مہاتیر محمد نے ہندو تاجروں کے ملائیشیا سے اربوں ڈالر مالیت کی ناریل کے تیل کی تجارت بند کرنے کی دھمکی کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے کشمیر پر بھارتی جارحیت سے متعلق اپنا بیان واپس لینے سے انکار کر دیا۔


بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے بھارت کو دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ ہندو تاجروں کی  ملائیشیا سے ناریل کے تیل کی خریداری بند کرنے کی دھمکی کے باوجود وہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور حق خودارادی سے متعلق اپنا بیان واپس نہیں لیں گے۔

وزیراعظم مہاتیر محمد نے پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ اقوام متحدہ سے کشمیر پر اپنی قراردادوں پر عمل درآمد کرنے کا مطالبہ بہت سوچ سمجھ کر کیا تھا جس پر اب بھی قائم ہوں اور کوئی دباؤ مجھے اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹا سکتا۔

وزیراعظم مہاتیر محمد نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنے خطاب میں بھارتی فوج کی جارحیت اور مودی سرکار کی کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے پر شدید تنقید کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ اقوام متحدہ کو اپنی رٹ قائم کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر سے متعلق اپنی قراردادوں پر عمل درآمد کرانا چاہیے۔

واضح رہے کہ ترک صدر نے بھی اقوام متحدہ میں مظلوم کشمیروں کا مقدمہ پیش کیا تھا جس پر بوکھلاہٹ کے شکار بھارتی وزیراعظم نے 2 روزہ دورہ ترکی منسوخ کرکے بیان واپس لینے کے لیے دباؤ ڈالا تھا اور اب اربوں ڈالر سالانہ کی تجارت ختم کرنے کی دھمکی  دیکر ملائیشیا کے وزیراعظم کو بیان واپس لینے پر مجبور کرنے کی مذموم کوشش کی تاہم دونوں بار بھارت کی دال نہیں گلی۔