نواز شریف کے بغیر پاکستان،شہبا زشریف کے بغیر پنجاب لاوارث ہے:مریم نواز 

 نواز شریف کے بغیر پاکستان،شہبا زشریف کے بغیر پنجاب لاوارث ہے:مریم نواز 
کیپشن: سکرین گریب نیو نیوز

لاہور:پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے مال روڈ لاہور پر بلوچ طلبا کے دھرنے میں شرکت کی اور کہا کہ نواز شریف کے بغیر پاکستان، شہباز شریف کے بغیر پنجاب لاوارث ہے،طلبا صرف تعلیم کی خاطر سڑکوں پر ہیں،بلوچ طلبا سے اظہار یکجہتی کےلئے آئی ہوں۔


ذرائع کے مطابق سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی صاحبزادی اور پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز مریم نواز چیئرنگ کراس مال روڈ پہنچیں،شائستہ پرویز ملک،عظمیٰ زاہد بخاری اور میاں مرغوب سمیت دیگررہنما بھی  ساتھ موجود تھے۔


  بلوچ طلبا کے مظاہرے میں شرکت کرتے ہوئے طلبا  کے احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز  نے کہا کہغلط فیصلوں کے ا ثرات قوم کو بھگتنا پڑتے  ہیں،بھائی کا ساتھ دینے پر شہباز شریف کو جیل بھیجا گیا،یہ کہتے ہیں پنجاب بڑ ا بھائی ہے،میں کہتی ہوں بلوچستان بڑا بھائی ہے،بھائی سے بھائی کو لڑانے کی سازش کی گئی۔


مریم نواز کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے کہا عمران خان ہمارا ہدف نہیں،کراچی واقعہ نے ثابت کردیا یہ بڑوں کی لڑائی ہے،حکومت بنی گالہ میں چھپ کر بیٹھی ہے،ایک خاتون کےکمرے کا دروازہ توڑکر داخل ہوئے،سیاسی مقاصد کے لئے بلوچ طلبا کے پاس نہیں آئی،روٹی 30روپے کی ہوگئی،آٹا چینی غائب ہے،جلد یا بدیر آپ کو قانون کا سامنے کرنا پڑے گا۔


نائب صدر ن لیگ کا مزید کہنا تھا کہ نواز شریف کے بغیر پاکستان،شہبا زشریف کے بغیر پنجاب لاوارث ہے،غلط فیصلوں کےاثرات قوم کو بھگتنا پڑیں گے،ہم انکوائری رپورٹ چھپانے نہیں دیں گے،شائد حکومت جنوری سے قبل ہی چلتی بنے۔

کراچی واقعے سے متعلق پوچھے گئے سوال پر مریم نواز کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں کراچی واقعے پر انکوائری کی کوئی ضرورت نہیں ہے ہر چیز بڑی واضح ہے، کراچی واقعہ کی انکوائری رپورٹ عوام کے سامنے لائی جانی چاہیے، کراچی واقعے پر مجھے بلایا گیا تو گواہی دینے ضرور جاؤں گی۔

مریم نواز کا کہنا تھا حکومتی مشیر اپنی خفت مٹانے کے لیے بیان بازی کر رہے ہیں، حکومت کی ہوائیاں اڑی ہوئی ہیں، یہ جنوری سے پہلے چلی جائے گی۔

واضح رہے کہ بلوچ طالب علموں کا مارچ اپنے تعلیم کے حق کے لئے ملتان سے لاہور پہنچا ہے ،یہ طالب علم تعلیم کے اپنے حق کے لئے بارہ دن میں پیدل لاہور پہنچے ہیں ۔

بہائوالدین ذکریا یونیورسٹی کے ان طالب علموں نے وظائف کی بحالی کے لئے ایک نئی مثال قائم کی ہے ،آج پنشنرز، سرکاری ملازم، خواتین،طالب علم سب سڑکوں پر ہیں اور ظالم حکومت سے اپنا حق مانگ رہے ہیں  جبکہ ہم معاشرے کے ان پسے ہوئے طبقات کے حقوق کی فراہمی کے مطالبے کی حمایت کرتے ہیں۔