دنیا کے واحد سرکاری جادوگر نوکری سے برطرف 

 دنیا کے واحد سرکاری جادوگر نوکری سے برطرف 
سورس: فائل فوٹو

کراسٹ چرچ : نیوزی لینڈ نے اپنے سرکاری جادوگر کو ملازمت سے برطرف کردیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جدید رویوں کے شہر میں مزید ان کی ضرورت نہیں رہی ہے۔

نیوزی لینڈ کے میڈیا کے مطابق نیوزی لینڈ کے سرکاری جادوگر  جو ریاست کی جانب سے مقرر کردہ دنیا کا واحد جادوگر ہے کو سرکاری نوکری سے فارغ کر دیا گیا ہے جس کے ساتھ 23 سالہ ورثے کا اختتام ہو گیا ہے۔

88 سالہ جادوگر، جس کا اصلی نام ایان بریکنبری چینل ہے کے ساتھ گزشتہ دو دہائیوں سے کرائسٹ چرچ سٹی کونسل نے معاہدہ کیا تھا  تاکہ وہ جادوگری اور جادوگر جیسی دیگر خدمات کے ذریعے اس شہر کی شہرت کا سبب بنے ۔  اس کے لیے انھیں سالانہ طور پر 16 ہزار ڈالرز ادا کیے جاتے تھے، اور اب تک مجموعی طور پر انھیں 3 لاکھ 68 ہزار ڈالرز ادا کیے جا چکے ہیں۔

ایان بریکنبری خود ایک مشہور سیاحتی اٹریکشن کے حامل بن چکے تھے ۔ وہ سیاحت کے لیے آنے والے لوگوں کے سامنے اپنی لمبی لہراتی داڑھی، گھنے بالوں اور لمبی  کالی چادر کے ساتھ اور نوک دار ٹوپی پہنے ہوئے تقریریں کرتا تھا۔

 بریکنبری برطانیہ میں پیدا ہوئے تھے 1976 میں نیوزی لینڈ پہنچنے کے فوراً بعد عوامی مقامات پر جادوگری اور تفریح کے کام کرنے لگے۔

شروع میں پولیس نے انھیں لوگوں کے سامنے تقریر کرنے پر گرفتار بھی کیا، اور جب کونسل نے انھیں روکنے کی کوشش کی تو عوام نے احتجاج کیا۔

1982 میں، نیوزی لینڈ آرٹ گیلری ڈائریکٹرز ایسوسی ایشن نے انھیں ایک زندہ فن پارہ قرار دیا اور پھر 1998 میں اس وقت کے وزیر اعظم مائیک مور نے ان سے درخواست کی کہ وہ نیوزی لینڈ کے سرکاری جادوگر بن جائیں۔

نوکری سے فارغ کیے جانے پر ایان بریکنبری نے رد عمل میں کہا کہ بیوروکریٹس قوت متخیلہ سے محروم ہیں، وہ کرائسٹ چرچ کی شہرت کے طریقوں کو بالکل نہیں سوچتے، اور وہ اب میری عالمی شہرت کو استعمال نہیں کرنا چاہتے، میں اس پر مایوس ہوں۔