مصری گاؤں والوں نے شادیوں میں تاخیرکا حل ڈھونڈ نکالا

مصری گاؤں والوں نے شادیوں میں تاخیرکا حل ڈھونڈ نکالا

قاہرہ: مصر کے ایک گاؤں کے باشندوں نے حال ہی میں متفقہ طور پرشادی میں تاخیر کا حل ڈھونڈ نکالا۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مصر کی بنی سویف گورنری کے نواحی قصبے’براوہ‘ کی سرکردہ شخصیات نے مل بیٹھ کر شادی بیاہ میں تاخیر کا حل ڈھونڈ نکالا۔


انہوں نے متفقہ طور پریہ فیصلہ کیا ہے کہ گاؤں کے اندر ہونے والی کسی بھی شادی میں غیر ضروری رسوم ورواج پرعمل درآمد نہیں کیا جائے۔ شادی پر کسی قسم کے تحفے تحائف کی تقسیم پر سختی سے پابندی ہوگی۔

طبلے اور بینڈ باجے،بیش قیمت سونے چاندی کے زیورات کی خریداری اور لمبے چوڑے ولیمے کی اجازت نہیں ہوگی۔ تمام اہل قصبہ نے اس معاہدے سے اتفاق کیا ہے اور ساتھ ہی یہ طے پایا ہے کہ اس معاہدے کی خلاف ورزی کرنے والے خاندان کو پانچ ہزار مصری پاؤنڈ یا اس سے زیادہ کا جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔

’سونے کے بغیر شادی‘ کے عنوان سے مہم کے روح رواں جلال ربیع نے’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’براوہ‘ گاؤں کے شہریوں نے شادی بیاہ میں اسراف سے بچنے کے لیے 9 نکاتی معاہدہ کیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت شادی پر اخراجات کی حد 40 ہزار مصری پاؤنڈ رکھی گئی ہے۔

گاؤں کی سطح پر بنائی گئی کمیٹی کے سامنے دلہا خاندان کی طرف سے اخراجات کی فہرست پیش کرنا لازمی ہے۔ اس فہرست میں دلہن کو 60 سے 150 گرا سونا دینے کے بجائے 15 سے 20 گرام کی انگشتری یا اس کے برابر سونے کی کوئی دوسری چیز دینے کی اجازت ہے۔

اس کے علاوہ دلہا دلہن کے لیے ایک چھوٹا فلیٹ جو بیٹھک، بیڈ روم یا ایک آدھ اور کمرے پر مشتمل ہوگا دینے کی اجازت ہے۔ اس میں کسی قسم کی تزئین آرائش پر پابندی ہے۔ شادی پر الیکٹرانک، الیکٹریکل، کچن، فرنیچر اور کارپٹ وغیرہ سمیت کل 40 ہزار پاؤنڈ تک اخراجات کی اجازت ہوگی۔ اس سے زیادہ خرچہ کرنے والا خاندان پانچ ہزار مصری پاؤنڈ جرمانہ ادا کرے گا۔

جلال ربیع نے بتایا کہ گاؤں کی سطح پر طے پائے اس معاہدے کے بعد علاقے کی ایسے خواتین وحضرات جن کی شادیاں اخراجات پورے نہ ہونے کے باعث تعطل کا شکار تھیں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ مقامی شہری خوشی کےماہر بھنگڑے ڈالتے سڑکوں پر نکل آئے اور اس پر خوشی کا اظہار کیا۔