بلوچستان کی اتحادی پارٹی نے حکومت کاساتھ چھوڑنے کا اعلان کر دیا

بلوچستان کی اتحادی پارٹی نے حکومت کاساتھ چھوڑنے کا اعلان کر دیا

لاہور:مشکل کے مرحلے میں حکومت کو ایک اور جھٹکا لگ گیا ہے اور بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے حکومت سے الگ ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے صدر سردار اختر جان مینگل نے کہاہے کہ ان کی جماعت کا حکومت کے ساتھ اتحاد اگست میں ختم ہو جائے گا اور پارٹی اپنی راہیں جدا کرنے میں آزاد ہوگی کیونکہ طے شدہ معاہدے کے مطابق اتحاد کی مدت ختم ہو رہی ہے۔


انہوں نے حکمران جماعت پی ٹی آئی کے رویے پر مایوسی کا اظہار کیا اور کہا کہ گزشتہ سال کیے گئے وعدے کے مطابق حکومت بی این پی (مینگل) اور بلوچستا ن کے عوام کے تحفظات اور ان کے مسائل کے حل کیلئے 8 رکنی کمیٹی تشکیل دینے میں ناکام ہو چکی ہے۔

کمیٹی کے قیام پر اتفاق وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ ماہ اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات میں کیا تھا۔بی این پی (مینگل) نے کمیٹی کیلئے چار ارکان کو نامزد کیا لیکن حکومت نے اب تک اس حوالے سے کوئی قدم نہیں اٹھایا اور ارکان نامزد نہیں کیے۔ اختر مینگل نے حکومت کے اس رویے پر افسوس کا اظہار کیا۔

اس بیان سے قبل اختر مینگل یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ اگر بلوچستان کے معاملے پر اور ساتھ ہی ریکو ڈک اور گوادر کے معاملے پر فیصلے کرتے وقت نظرانداز کیا گیا تو ان کی جماعت حکمران جماعت کے ساتھ اتحاد ختم کر سکتی دلچسپ بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی نے چار ووٹوں کے فرق سے حکومت تشکیل دی جبکہ بی این پی (مینگل) کے پارلیمنٹ میں ارکان کی تعداد پانچ ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے کیونکہ پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت گرانے کے لیے اپوزیشن کا گٹھ جوڑ شروع ہو چکا ہے اور پارٹی کے اند ر بھی گروپ بندی واضح دکھائی دے رہی ہے جبکہ اب بلوچستان میں بھی پی ٹی آئی حکومت کو سرخ بتی جلتی نظرآ رہی ہے۔