چار سال محنت کی،گورنری نہیں چھوڑوں گا:چودھری سرور

چار سال محنت کی،گورنری نہیں چھوڑوں گا:چودھری سرور
فوٹو نیو نیوز

لاہور: گورنری چھوڑنے کے حوالے سے چودھری سرور نے واضح اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو لوگ تنقید کر رہے ہیں وہ سن لیں میں نے چار سال محنت کی ہے اور گورنر کی سیٹ نہیں چھوڑوں گا ہم مرکز اور پنجاب میں پانچ سال پورے کریں گے۔


تفصیلات کے مطابق پارٹی اختلافات کی خبروں کے بعد آج ہونیوالی پریس کانفرنس میں خدشہ ظاہر کیا جارہا تھا کہ چودھری سرور گورنری سے استعفیٰ دے دیں گے مگر انہوں اپنی پریس کانفرنس میں واضح کردیا کہ وہ گورنر پنجاب کے عہدے سے استعفیٰ نہیں دیں گے اور حکومت 5 سال پورے کرے گی۔

چودھری سرور نے کہا کہ پنجاب کیلئے آب پاک کنٹریکٹ پر دستخط کر دیے ہیں، میرا ایک سال ضائع ہوگیا میں نے ایک کروڑ لوگوں کو صاف پانی دینا تھا پنجاب آبِ پاک اتھارٹی یہاں صاف پانی مہیا کرے گی۔

گورنر پنجاب نے مزید کہا کہ میں چار مقاصد کی وجہ سے امریکہ گیا تھا، پاکستانی کمیونٹی سے ملنا تھا، انہیں پاکستان میں انویسٹ کرنے پر آمادہ کرنا، پاکستانی کمیونٹی کو امریکی سیاست میں حصہ لینے پر آمادہ کرنا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کی تنقید کو مثبت انداز میں لیتا ہوں، میں تنقید کرنے والوں کے بیانات کا احترام کرتا ہوں، میں جب تک گورنر رہوں گا سرور فاؤنڈیشن کیلئے فنڈ ریزنگ نہیں کروں گا، امریکہ میں جو بھی فنڈز ریز کیے ہیں سرور فاؤنڈیشن تمام فنڈز پنجاب آب پاک اتھارٹی کے حوالے کرے گی۔

گورنرپنجاب نے کہا کہ جولوگ سمجھتے ہیں کہ میں استعفیٰ دے دوں گا تو وہ سن لیں میں نے چارسال محنت کی ہے اب بھاگا نہیں جاسکتا۔چودھری سرور نے کہا کہ جب تک میں گورنر ہوں سرور فاﺅنڈیشن کی کسی بھی فنڈریزنگ کا حصہ نہیں بنوں گا ، لوگوں کو فنڈریزنگ پر اعتراضات تھے جنہیں میں قبول کرتاہوں،سرورفاﺅنڈیشن کے تمام فنڈ آب پاک اتھارٹی کو منتقل کیے جائیں گے ۔گورنر پنجاب نے کہا کہ میری زندگی میں ایسا بھی وقت آیا جب میرے پاس دو راستے تھے ، ، ایک راستہ کہ میں امیر بنوں اور دوسرا کہ میں سیاست دان بنوں ، میں نے سیاست کا راستہ چنا اور ہاﺅس آف لارڈز کی طرف چل پڑا۔

انہوں نے کہا کہ ہاﺅس آف لارڈز کے دروازے مسلمانوں کیلئے بند تھے ، کوئی بھی مسلمان پارلیمنٹ کا ممبر نہیں تھا ، پورے یورپ میں کوئی مسلمان کسی پارلیمنٹ کا ممبر نہیں تھا ، کہیں بھی مسلمانوں کی نمائندگی نہیں تھی تاہم میں نے اسے ایک چیلنج کے طور پر قبول کیا۔1997 میں برطانوی پارلیمنٹ کا پہلا مسلمان ممبر بننے کا اعزاز حاصل ہوا اور میں نے جس قرآن شریف پر حلف اٹھایا وہ آج بھی برطانوی پارلیمنٹ میں موجود ہے۔جب میں امریکہ دورے پر گیا تو خبر ملی کہ میری گورنری چلی گئی ، میں نے عہدوں سے کبھی پیار نہیں کیا ، میں انسانوں سے محبت کرتاہوں ، مجھے جب گورنر بنایا گیا ، میں سینیٹ کا ممبر تھا میں انجوائے کر رہاتھا ، گورنر بنانے کا فیصلہ پارٹی نے کیا ۔

مجھے گورنر بننے پر کوئی خوشی نہیں ہوئی تھی ، جو پارٹی نے فیصلہ کیا میں نے اسے قبول کیا لیکن میں آپ کو یہ بتانا چاہتاہوں کہ دو چیزیں گورنری سے اہم ہیں جو عمران خان نے میرے حوالے کیں ، ایک وزیراعظم نے مجھے ٹورزم اور ثقافت کا سربراہ بنایا ، میں پوری قوم کو مبارک باد دیتاہوں کہ کل پنجاب آب پاک اتھارٹی کے بل پر دستخط کر دیئے ہیں ، میرا جذبہ ہے کہ لوگوں کو پینے کا صاف پانی فراہم کیا جائے۔

چودھری سرور کا کہنا تھا کہ دنیا میںسب سے بڑا کاروبار سیاحت ہے ، بد قسمتی سے کسی حکومت نے اسے فروغ دینے کی کوشش نہیں کی لیکن عمران خان نے اس پر خاص توجہ دی ، میرے فیصلوں پر عمل ہوتا تو پارٹی کو پنجاب میں بھی دو تہائی اکثریت ملتی لیکن جمہوریت پر یقین رکھتاہوں اس لیے اپنے فیصلوں کی قربانی دی ، پہلی مرتبہ پاکستان نے بھارت کو سفارتی محاذ پر شکست دی۔