طالبان کے رویے میں خوش آئند تبدیلی

Rana Zahid Iqbal, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan

ایک طرف امریکہ نے دی گئی ڈیڈ لائن سے پہلے انخلا کر لیا تو دوسری طرف طالبان نے بھی تجزیہ نگاروں کی سوچ سے قبل ہی کابل کو فتح کر لیا۔ افغانستان میں طالبان کی حکومت ختم ہونے کے بعد سے وہاں گزشتہ دو دہائیوں میں بنی حامد کرزئی اور اشرف غنی کی حکومتیں امریکہ کی کٹھ پتلی ہی ثابت ہو رہی تھیں۔ امریکہ نے سکیورٹی اور جمہوریت کا جو ڈھانچہ بنایا تھا اتنا کمزور ثابت ہوا کہ اشرف غنی کے افغانستان سے بھاگنے کے ساتھ ہی زمین بوس ہو گیا۔ افغانستان کے قبضے کا واقعہ جس تیزی سے پیش آیا اس سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ افغان سکیورٹی فورسز، پولیس اور وہاں کا ہر عام شخص امن اور صلح چاہتا ہے۔ طالبان کے قبضہ کرنے کے بعد واضح طور پر ایک خوش آئند تبدیلی محسوس کی جا رہی ہے کہ انہوں نے گزرتے وقت کے ساتھ سیاسی معاملات کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کر لی ہے اور وہ دھونس و جبر کے بجائے مشاورت کے عمل کو اہمیت دے رہے ہیں، ان کا یہی رویہ حقیقت پسندانہ ہے۔ طالبان کے بانی رہنما اور ان کے دیگر ساتھی اب دنیا میں موجود نہیں ہیں اور نئی قیادت ماضی کی غلطیوں اور کوتاہیوں سے اجتناب برتتے ہوئے نیا افغانستان تعمیر کرنا چاہتی ہے۔ جس اسلامی حکومت کے قیام کی وہ بات کرتے ہیں اس کی بنیادی شرط ہی اعتدال پسندی ہے۔ ماضی میں طالبان کا خواتین کے بارے میں نقطہئ نظر انتہائی نامناسب رہا ہے لیکن اب انہوں نے کہا ہے کہ خواتین حکومت کا حصہ بنیں۔ افغانستان میں ابھی حکومت سازی کے متعلق گفت و شنید جاری ہے اور یہ واضح نہیں ہے کہ طالبان حکومت کس طرز اور نوعیت کی ہو گی۔ کیا اس کی پالیسیاں پہلے کی طرح ہی ہوں گی یا پھر عالمی دباؤ کے پیشِ نظر اعتدال پسندی کے مظاہرے کے لئے اس میں تبدیلی کی جائے گی۔ طالبان کی جانب سے ا ب تک جو بھی بیانات یا احکامات سامنے آئے ہیں وہ امید افزا ہیں اور اس وقت کے طالبان اور نوے کی دہائی کے طالبان میں فرق نظر آ رہا ہے۔ ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ آج کے طالبان بدل چکے ہیں۔ مستقبل کی حکومت میں طالبان اگر چہ تمام فریقوں کی شمولیت کی بات کرتے ہیں لیکن آئندہ چند دنوں میں پتہ چل سکے گا کہ عملی طور پر ایسا ہوتا ہے یا نہیں۔ لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ افغانستان میں چار دہائیوں سے جاری جنگ ختم ہو رہی ہے، طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے صورتحال تیزی سے بہتری کی جانب گامزن ہے۔ طالبان کی طرف سے افغان عوام اور بیرونی دنیا کو مطمئن کرنے کی مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں تا کہ ان کا اعتماد بحال ہو اور وہ انہیں ماضی کے طالبان سے ہٹ کر دیکھیں۔  

20 سال کی صبر آزما جد و جہد اور ہزاروں جانوں کی قربانی کے بعد افغانستان میں اماراتِ اسلامی کی بحالی بلا شبہ طالبان کی بڑی فتح ہے لیکن آنے والے وقتوں میں اسے قائم و دائم رکھنے کے لئے انہیں اس سے بھی بڑی آزمائشوں سے گزرنا ہو گا۔ اس وقت کابل کا صدارتی محل طالبان کی تحویل میں ہے اور ان کے بعض اہم رہنما بھی وہاں پہنچ چکے ہیں جو حکومت سازی کے عمل میں شریک ہیں۔ سرکاری دفاتر پر امارتِ اسلامی کے پرچم لہرا ئے جا چکے ہیں۔ امید ہے اگلے چند روز میں طالبان کی حکومت قائم ہو جائے گی۔ اس قدر جلد تبدیلی سے وہ لوگ زیادہ حیران اور پریشان ہیں جو رات دن اسلام اور طالبان کے خلاف بولتے ہوئے تھکتے نہیں تھے۔ جو لوگ بہت زیادہ اس کے قائل تھے کہ طالبان دہشت گرد ہیں اور ان کی حکومت اگر قائم ہوئی تو دہشت گردی دنیا میں بڑھے گی، وہ یہ بھی چاہتے تھے کہ امریکی فوج کسی حال میں بھی افغانستان کو چھوڑ کر نہ جائے تا کہ اشرف غنی کی مصنوعی حکومت قائم و دائم رہے۔ طالبان کے جنگجو جب کابل میں داخل ہوئے تو عوام نے طالبانی فوج کا جوق در جوق استقبال کرنا شروع کر دیا۔ اس سے دنیا کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں کہ وہاں کس کی حکومت ہونی چاہئے جن کو افغانستان کے عوام پسند کرتے ہیں یا ان لوگوں کی حکومت ہونی چاہئے جو عوام کی تائید اور حمایت کے بجائے امریکہ بہادر کی حمایت اور تائید چاہتے ہیں۔

دو دہائیاں قبل طالبان نے چھاپہ مار جنگ اور تشدد سے اقتدار حاصل کیا تھا لیکن اس بار انہوں نے الگ حکمتِ عملی اختیار کی۔ انہوں نے سرکاری اہلکاروں سے لے کر فوج تک رسائی حاصل کی اور انہیں اپنے ساتھ ملایا۔ طالبان نے ان سے کہاکہ وہ پر امن طریقے سے اقتدار چاہتے ہیں اور لوگوں کی جان و مال کی حفاظت ان کی ترجیحات میں شامل ہے۔ ایسی صورت میں اب طالبان کو اقتدار میں آنے سے کیسے کوئی روک سکتا تھا۔ لیکن اب بڑا سوال یہ ہے کہ عالمی برادری طالبان حکومت کی حمایت کرے گی یا نہیں۔ اس کا فیصلہ آنے والا وقت ہی کرے گا مگر چین نے کہا ہے کہ وہ افغان عوام کے حق کا احترام کرتا ہے کہ وہ آزادانہ طور پر اپنی قسمت کا فیصلہ کریں اور چین افغانستان کے ساتھ دوستانہ اور باہمی تعاون کے فروغ کو جاری رکھنا چاہتا ہے۔ اس طرح چین نے طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کا عندیہ دے دیا ہے۔

امریکہ کو افغانستان سے وہی کچھ ملا جو روس کی حکومت کو ملا تھا۔ روس کی فوج کو شکست خوردہ اور شرمندہ ہو کر افغانستان سے جانا پڑا تھا۔ اسی طرح طالبان 20سال تک امریکہ کے سامنے مزاحمت کرتے رہے۔ روس کی طرح امریکہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار تو نہیں ہوا لیکن اس کی معاشی ابتری دنیا کی نظروں سے پوشیدہ نہیں ہے اور نہ ہی طالبان کی قوت و ہمت کے مقابلے میں امریکہ کی شکست پر پردہ ڈالا جا سکتا ہے۔ اس وقت امریکہ دنیا کی سب سے بڑی طاقت کہی جاتی ہے۔ طالبان کے پاس وہ ہتھیار، وہ ٹیکنالوجی جو امریکہ کے پاس ہے نہیں تھی اور اب بھی نہیں ہے۔ اس کے باوجود طالبان کے پاس وہ ایک ایسی چیز تھی جو امریکہ کے فوجیوں کے پاس نہیں تھی۔ وہ ہے روحانی و اخلاقی طاقت اور اللہ تعالیٰ پر جو سب سے بڑی قوت کا مالک ہے اس پر مکمل اور غیر معمولی بھروسہ۔افغانستان ایک صدی سے دنیا کی بڑی طاقتوں کی زورآزمائی کے مرکز میں رہا ہے اور سب کی آخرکار شکست ہوئی۔ سرد جنگ کے دور میں جن مجاہدین کو امریکہ نے سوویت یونین سے لڑنے کے لئے کھڑا کیا تھا آج انہی کے ہاتھوں اس کی شکست ہوئی۔ 

امریکہ نے ایسے معاشرے پر مغربی طرز کا جمہوری نظام مسلط کرنے کے لئے پیسے اور فوجی طاقت کا استعمال کیا جو اسے قبول کرنے کے لئے تیار نہیں تھا۔ اس حوالے سے اگلے کئی دن اس بات کا تعین کرنے کے لئے بہت اہم ہوں گے کہ آیا امریکہ افغانستان کے حالات پر کسی حد تک دوبارہ قابو پانے کے قابل ہے یا نہیں۔ جو بائیڈن چوتھے امریکی صدر ہیں جنہیں افغانستان میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کا شروع سے ہی اصرار ہے کہ وہ امریکہ کی طویل ترین جنگ اپنے جانشین کو نہیں سونپیں گے۔ جوبائیڈن انتظامیہ وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ میں اپنی حکمتِ میں تبدیلی لا رہی ہے جس کا مقصد بظاہر چین، روس اور ایران سے درپیش خطرات پر زیادہ سے زیادہ توجہ مرکوز کرنا ہے۔