انکار اور نفرت کی سیاست کا انجام

انکار اور نفرت کی سیاست کا انجام

پاکستان کی سیاست کسی ایسے مقام کی طرف جاتی ہوئی محسوس ہو رہی ہے جو قطعاً درست نہیں ہے۔ سیاسی معاملات میں تلخی بڑھتے بڑھتے یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ مرکز اور صوبے (پنجاب و سندھ) ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ مرکز سے 9/10 اپریل 2022 کو تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد عمران خان کی رخصتی ایک ٹرننگ پوائنٹ ہے جس کے بعد پی ٹی آئی کا نفرت اور انکار پر مبنی بیانیہ اپنے عروج کی طرف جاتا نظر آ رہا ہے۔ عمران خان جس انداز میں جنونی طریقے سے ”میں نہ مانوں“ کی حکمت عملی پر چل رہے ہیں پارلیمان کو مانتے نہیں ہیں کیونکہ انہیں وہاں سے ایک آئینی اور قانونی طریقے سے ہٹایا گیا۔ ان کی حکمرانی کا خاتمہ کیا گیا اس دن سے وہ نہ تو اتحادی حکومت کو تسلیم کر رہے ہیں اور نہ ہی اس اسمبلی کو مانتے ہیں جہاں انہیں ہزیمت اٹھانا پڑی۔ وہاں سے مستعفی بھی ہو چکے ہیں لیکن ضمنی انتخابات لڑ کر اس اسمبلی کی ممبرشپ جیتنے کی کاوشیں بھی کر رہے ہیں یہ متضاد حرکات ان کی فکری اور عملی کمزوری کا اظہار ہیں۔ پنجاب اسمبلی نے بھی ان کے وسیم اکرم پلس وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو بھی آئینی و قانونی طریقے سے رخصت کیا۔ ان کے پچیس اراکین نے عثمان بزدار کے خلاف، حمزہ شہباز شریف کو ووٹ دیا اور پھر اپنی اسمبلی ممبر شپ سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ پی ٹی آئی اپنی ہی خالی کردہ 25 میں سے 20 نشستوں پر الیکشن جیت سکی اس ہلچل میں ان کی پانچ نشستیں کم ہو گئیں اس پر عمران خان اور ان کے حواری ناچ گا رہے ہیں کہ ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔ عجیب صورت حال ہے 5 نشستیں ہار کر فتح اور مقبولیت میں اضافے کا دعویٰ دیوانگی یا بے وقوفی نہیں تو اور کیا ہے ۔ پھر عمران خان نے چودھری پرویز الٰہی کو جسے وہ ڈاکو کہا کرتے تھے، اپنی طرف سے وزارت اعلیٰ کے لئے نامزد کرنا کیا معنی رکھتا ہے اس نامزدگی سے تھوڑا ہی عرصہ پہلے وہ عمران خان کے بارے میں کھلے عام کہہ چکے تھے کہ ”عمران خان کی نیپیاں بدلی جاتی رہی ہیں“۔ دس ممبران (صوبائی اسمبلی ممبران) پر مشتمل پارٹی کے چودھری پرویز الٰہی کو صوبہ پنجاب کا وزیراعلیٰ بنوانا، عمران خان کی سیاسی دیوالیہ پن کا ثبوت ہے حیران کن بات یہ ہے کہ ق لیگ اس سارے عمل میں دو ٹکڑوں میں تقسیم ہو گئی ہے مرکز میں چودھری شجاعت حسین تین ممبران قومی اسمبلی کے ساتھ اتحادی حکمران جماعت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ طویل انتظار کے بعد عوام کے سامنے آ چکا ہے الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری کردہ تفصیلات پڑھنے کے بعد جھوٹ، کذب اور غیر شفافیت کی ایک تہہ در تہہ داستان سامنے آتی ہے کہ پی ٹی آئی کس طرح جائز ناجائز ذرائع سے پیسے اکٹھے کرتی رہی ہے مشکوک اکاﺅنٹس کھلوا کر، مشکوک 

ذرائع سے فنڈز ٹرانسفر ہوتے رہے ہیں اور حیران کن بات یہ ہے کہ عمران خان دھڑلے سے قانونی دستاویزات پر دستخط کر کے پارٹی کی طرف سے الیکشن کمیشن کو جمع کرائی جانے والی دستاویزات کی حقانیت پر مہر تصدیق ثبت کرتے رہے ہیں گویا شفافیت و دیانتداری کے اپنے بیانیے کی نفی کرتے رہے جب الیکشن کمیشن نے اس طرف نشاندہی کی کہ عمران خان ایسی جھوٹی دستاویزات کے سچا ہونے کی تصدیق کرتے رہے ہیں توکہا گیا کہ اکاﺅنٹنٹ جو کچھ تحریر کرتا تھا عمران خان اسے درست مان کر اس کی تصدیق کرتے تھے گویا وہ دستاویز میں درج معلومات کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ کیا عجیب منطق ہے کیا عجب بیانیہ ہے۔ ویسے عمران خان بیانیہ بنانے بلکہ بیانیہ گھڑنے میں یدطولیٰ رکھتے ہیں ان کی پوری سیاسی جدوجہد دیکھ لیں۔ اس میں ان کے بیانات کا تجزیہ کر لیں اور ایک حقیقت بڑی واضح نظر آئے گی کہ وہ اپنی کہی گئی کسی بات کا پہرہ نہیں دیتے۔ کل جنہیں ڈاکو کہتے تھے آج انہیں اپنا وزیراعلیٰ بنانے میں انہیں کوئی باک نہیں ہوتا۔ کل جسے چپڑاسی بھی نہ رکھنے کی بات کرتے تھے آج اسے اپنا ساتھی اور معتمد ساتھی بنانے پر انہیں رتی برابر بھی شرم محسوس نہیں ہوتی۔ انہوں نے 1995 تا 2011 کیا خوبصورت اور اصولی باتیں نہیں کیں۔ جاری نظام سیاست کے بارے میں، انداز حکمرانی کے بارے میں انہوں نے کیا کیا نہیں کہا ان کے اس وقت کے ایسے ہی ”ارشادات عالیہ“ کو دیکھیں تو وہ نظری و فکری طور پر بلند مقام پر فائز نظر آتے ہیں لیکن 2011 کے بعد جب انہیں گود لیا گیا تو انہوں نے اپنے آپ کو اعلیٰ مقام سے گرانا شروع کر دیا۔ مفاہمت کرنا شروع کر دی اور پھر اسی مفاہمت کے نتیجے میں الیکٹ ایبلز کو ساتھ ملانے کی منصوبہ سازی شروع ہوئی۔ مختلف جماعتوں سے جڑے ہوئے اور آزاد ایسے ہی الیکٹ ایبلز کو جمع جوڑ کر 2018 میں عمران خان اقتدار کے سنگھاسن پر جلوہ افروز کر دیئے گئے۔ عمران خان ایک عرصے سے جس نظام کی مخالفت کرتے اور اس کی برائیوں کا ذکر کرتے ہوئے تھکتے نہیں تھے اسی نظام کو چلانے اور بڑھانے کے لئے اقتدار میں آئے اور پھر ہم سب نے دیکھا کہ وہ کچھ بھی اچھا کرنے میں بری طرح ناکام ہوئے۔ ان کی کارکردگی سے بڑوں کو بھی شدید پریشانی ہوئی پھر الیکٹ ایبلز کی واپسی کے ساتھ ہی عمران خان کا پایہ¿ تخت ڈول گیا اور ان کی حکومت ختم ہو گئی۔

اپریل میں اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد سے عمران خان اپنے اصل رنگ روپ میں کھل کھلا کر سامنے آ رہے ہیں انکار اور نفرت کا بیانیہ عروج پر ہے افتراق و انتشار کی سیاست کا فروغ کر رہے ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ عمران خان غیرملکی ملک دشمن یہودی ایجنڈے کی تکمیل کے لئے سیاست میں لائے گئے ہیں وہ اس بات کے لئے حکیم سعید مرحوم اور ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم کی تحریر و تقریر کا حوالہ بھی دیتے ہیں۔ عمران خان کی یہودی خاندان میں شادی، سیاست میں آمد اور پھر حکومت کا حصول دیکھیں تو بیان کردہ تھیوری میں جان نظر آتی ہے۔ عمران کے ماننے والے کسی معقول بات اور دلیل کو سننے کے لئے تیار نہیں ہوتے ۔ دشنام اور الزام کے ساتھ ساتھ اداروں کی بے توقیری کی جاتی ہے۔ معاشرتی عدم استحکام کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ عمران خان کی سیاست نے پاکستان کو کمزور کیا ہے اور اب وہ کھلم کھلا بغاوت پر آمادہ نظر آ رہے ہیں۔ عدالت کو مان رہے ہیں نہ اسٹیبلشمنٹ کو، پارلیمان کو مان رہے ہیں نہ ہی الیکشن کمیشن کو، پولیس کو دھمکیاں، سرکاری افسران کو دھمکیاں، غرض ہر وہ شخص جو نظام حکومت اور کارِ سرکار چلانے میں مصروف ہے وہ عمران خان کی دھمکیوں کے نشانے پر ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ عمرانی سیاست اپنے حتمی انجام کی طرف بڑھتی جا رہی ہے۔ وہ اپنا آپ دکھانے کی مکمل تیاری میں نظر آ رہے ہیں جبکہ ریاستی ادارے بھی اپنا کردار ادا کریں گے۔ کیونکہ ایسا کرنا ان اداروں کی ذمہ داری ہے اسی میں پاکستان کی بقا پوشیدہ ہے۔

مصنف کے بارے میں