نفرت پر مبنی بیانیہ

نفرت پر مبنی بیانیہ

ملک میں افراتفری ،سیاسی بے چینی اور عدمِ تحفظ کی فضاہے اور کیا مستقبل میں جلد بہتری کاکچھ امکان ہے؟ اِس کے جواب میں وثوق سے ہاں کہنا ازحد مشکل ہے کیونکہ اخلاص کے منافی تمام جماعتوں کا بیانیہ نفرت پر مبنی ہے سیاستدان ملکی مسائل حل کرنے پر توجہ دینے کے بجائے یہ ثابت کرنے میں مصروف ہیں کہ اُن کے سوا کسی اورکو ملک وقوم کا احساس نہیں بلکہ ملک دشمنی کا ایجنڈا ہے یہ طرزِ عمل کسی طور ملک اور عوام کے مفاد میں نہیں ذاتی لڑائیاں لڑنے کی بناپرملک کے اصل مسائل نظر انداز ہو رہے ہیں ایسے حالات میں جب ملک کے طول و عرض میں عوام کو سیلاب کی تباہ کاریوں کاسامنا ہے پھربھی سیاسی قیادت کارویہ تبدیل نہیں ہوسکا لاتعلقی اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے جنونی ہونا کسی طور لائقِ تحسین نہیں۔

ملک کو کئی گمبھیر مسائل کا سامنا ہے روزگار کے مواقع کم ہونے کی بناپر بے روزگاری میں اضافہ ہوتا جارہا ہے قوتِ خرید کم ہونے سے شہریوں کی بڑی تعدادکو غذائیت کی کمی کاسامناہے جب ملک میں غربت و افلاس میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے اور لوگوں کاحکومتی یانجی اداروں سے ملنے والی امدادی رقوم یا سامان پر انحصار بڑھ رہا ہے روزگارکے مواقع بڑھانے کی ضرورت ہے سیاسی قیادت بے روزگاری جیسے مسائل دلچسپی لیکر حل کرکے ستائش حاصل کرسکتی ہے مگر ہو اِس کے برعکس رہاہے بے نیازی اور لا تعلقی ظاہر کرکے عوام کے دل نہیں جیتے جا سکتے یہ درست ہے کہ قومی خزانے کی حالت پتلی ہے اور وہ کروڑوں افراد کی کفالت کامتحمل نہیں ہو سکتامگر قومی قیادت کانفرت پر مبنی موجودہ رویہ بے نیازی کے ساتھ کسی حد تک سفاکی پر مبنی ہے اسی لیے غربت میں کمی نہیں آرہی سیاستدانوں کی نظر ملکی مسائل حل کرنے کی بجائے سیاسی فوائدپر ہے ملک کی معیشت درست کرنے کے دعویدارموجودہ حکمران بھی اہلیت وصلاحیت سے مسائل حل کرنے کی بجائے وقت گزار پالیسی پر عمل پیراہیں اور اِس کوشش میں ہیں کہ کوئی ایسا عجوبہ ہو جائے کہ وہ اگلے عام انتخابات میں اتنی اکثریت حاصل کر لیں کہ باآسانی حکومت بنا سکیں مگر اکثریت حاصل کرنے کے لیے عوام کے دل جیتنا لازم ہے لیکن اِس حوالے سے کہیں کوئی کام ہوتا نظر نہیں آتا اسی وجہ سے نہ صرف معاشی مسائل حل ہونے کی بجائے بدستور موجود ہیں بلکہ عوام پربھی غربت و افلاس کی گرفت مضبوط ہو تی جارہی ہے مگر نفرت پر مبنی بیانیہ رکھنے والوں کو لگتا ہے کہ مجبور اور پریشان حال عوام کا احساس تک نہیں اگر ہوتا تو ایسی سفاکی اوربے نیازی کا مظاہرہ ہر گز نہ کرتے۔

رواں برس مون سون کی بارشوں نے عشروں پرانے ریکارڈ توڑ دیئے ہیں ملک کے کئی علاقوں میں اب بھی جل تھل ہے ایسے علاقے بھی سیلاب کی زد میں ہیں جنھیں اکثر پانی کی قلت کا سامنا رہتا ہے شہروں میں موجود نکاسی آب کا نظام بھی رواں ماہ ہونے والی بارشوں کے سامنے بے بس نظر آیا نشیبی 

علاقوں میں جانی و مالی نقصان کے درجنوں واقعات ہوئے کوہ سلیمان ،بلوچستان اور گلگت بلتستان کے اکثر علاقوں کاملک سے رابطہ منقطع رہا اِس کے باوجود قومی قیادت میں افہام و تفہیم کا جذبہ عنقا نظر آیا مسائل میں گھرے لوگوں کی اگر کچھ مدد بھی کی تو مخالف سیاستدانوں کو بدنام کرنے کا موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا یہ طرزِ عمل کسی طور ملک یا قوم کے لیے سود مند نہیں بلکہ یہ نفرت پر مبنی بیانیہ عوام میں قومی قیادت کی ساکھ میں کمی لانے کا باعث بن سکتا ہے اِس طرزِ عمل سے عوام میں یہ احساس تقویت پکڑے گا کہ قومی قیادت کو عوام سے زیادہ اپنے سیاسی مفاد و اہداف زیادہ عزیز ہیں سیاسی قیادت کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اگر ملک کی اکثریت کو ہمدردی کے دعوے کھوکھلے ہونے کا پختہ یقین ہو گیا توانتخابی فوائد تو درکنار عوامی نفرت کے شکار ہو سکتے ہیں مستقبل میں سیلاب کی تباہ کاریاں ختم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ نئے آبی ذخائر کی تعمیر کا کام ہنگامی بنیادوں پر کیا جائے۔

عوام اتنے بھی سادہ نہیں جتنا سیاسی قیادت سمجھتی ہے جس کا ثبوت یہ ہے سیلاب زدگان کی امداد کے لیے وزیرِ اعظم کی طرف سے ایک خصوصی فنڈ قائم کرنے کے اعلان کو دوہفتے گزر چکے ہیں مگر بار بار کی اپیلوں کے باوجود اِس امدادی فنڈ میں شہریوں کی طرف سے رقوم جمع کرانے کا سلسلہ شروع نہیں ہو سکا اِس کی ایک بڑی وجہ تو یہ ہے کہ وہ سیاسی طورپر ایک غیر مقبول شخصیت ہیں دوسرایہ کہ اُن کی عملداری عملی طورپر وفاقی دارالحکومت کی حد تک ہے اسی بناپرامورِ مملکت پر گرفت نہ ہونے کے برابر ہے جس کی وجہ سے اُن کی آواز کے جواب میں ہاں کہنے کی رفتار مایوس کُن ہے لیکن کیا حالات کا اُنھیں خود بھی کسی حد تک ادراک ہے ؟ اُن کے اقدامات اور ترجیحات سے ایسے کوئی اِشارے نہیں ملتے بلکہ اُن کے اعتماد سے ایسامحسوس ہوتا ہے کہ آمدہ انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے کا کامل یقین ہے اگر وہ عمران خان کی تقریر کو بنیاد بنا کر ملکی منظر نامے سے ہٹانا چاہتے ہیں تو ایسا ہونا بظاہر مشکل ہی نہیں ناممکن ہے جس کی کئی ایک وجوہات ہیں ایک بڑی وجہ تو یہ ہے کہ عمران خان ملک کی سب سے مقبول جماعت کے ایسے سربراہ ہیں جن کی آواز پر لوگ متحرک ہوتے ہیں لیکن وزیرِ اعظم کے حوالے سے عوام میں یہ جذبہ مفقود ہے اِس لیے کسی بھی اقدام سے قبل حکومت کو یہ پہلو ہر گز نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ مقبول سیاسی رہنما کے خلاف غیر جمہوری اور غیر قانونی اقدامات کے نتائج افراتفری اور انتشار میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں تو کیا یہ بہتر نہیں کہ ملک کے حقیقی مسائل حل کرنے کے لیے نفرت پر مبنی بیانیہ ترک کردیا جائے ۔

غیر معمولی بارشوں اور سیلاب سے زرعی پیدوار متاثر ہونے کا خطرہ ہے جس کی طرف اسٹیٹ بینک نے بھی حالیہ اجلاس میں توجہ دلائی ہے شرح سود میں کمی لانے کی بجائے پندرہ فیصد برقرار رکھنے کا فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ ملک کے معاشی حالات اب بھی غیر متواز ن ہیں تجارتی خسارہ بھی کم ہونے کی بجائے بڑھتا جارہا ہے اور زرِ مبادلہ کے ذخائر محض7.9 ارب ڈالررہ گئے ہیں یہ صورتحال کسی طرح بھی حوصلہ افزا نہیںبہتری آنے کی بجائے اگرمعاشی ترقی مزید متاثر ہوتی ہے تو لا محالہ مہنگائی کا دباﺅ شدید ہو گا اور زرعی پیداوار میں کمی معاشی بگاڑ کی رفتار مزید تیز کردے گی موجودہ حالات قومی قیادت کی صلاحیتوں کا امتحان ہیں بہتر یہی ہے کہ قومی قیادت نفرت پر مبنی بیانیے پر کاربند رہنے کی بجائے لچکدار رویہ اپنائے اورایک دوسرے کے لیے بات چیت کے دروازے بند نہ کرے قیادت پست سوچ اور تنگ نظر نہیں ہوتی عمران خان کے خلاف دہشتگردی کا مقدمہ اور پھر توہینِ عدالت کی کارروائی ایسا بے لچک رویہ ہے جس سے ایسا تاثر ملتا ہے کہ سیاسی قیادت نے آپس میں سلسلہ جنبانی کے دروازے مستقل بند کر دیے ہیں اور سیاسی لڑائی بھی اِداروں کے سہارے لڑی جا رہی ہے یہ اطوار کسی طور لائق ِ تحسین نہیں بلکہ اِن کے بھیانک نتائج سیاسی استحکام کے خواب کو توڑنے کا باعث بن سکتے ہیں انتقامی کارروائیوں کے بجائے نازک معاشی حالات کی وجہ سے ملک کو ایسی نتیجہ خیز حکمتِ عملی کی ضرورت ہے جس سے نہ صرف سیلاب متاثرین اور معیشت کی بحالی ممکن ہو بلکہ غربت و افلاس کم کرنے کے لیے زرعی و صنعتی پہیہ رواں ہو سیاسی استحکام کے لیے سیاسی قیادت کو انتقامی جذبات سے مغلوب ہوکر فیصلے کرنے کے بجائے ملک و قوم کا مفاد مقدم رکھناچاہیے۔

مصنف کے بارے میں