گیم آف تھرونز

گیم آف تھرونز

گزشتہ سے پیوستہ۔ کہا تھا ناں کہ مانگنے والے شہباز شریف تک رسائی مانگ رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں راستہ دو اور راستہ لو۔ باالکل سب کچھ اسی طرح ہورہا ہے۔ گزشتہ تحریر میں تفصیل کے ساتھ یہ بھی بتایا تھا کہ عقاب والے اب میاں نوازشریف کو نہیں دیکھنا چاہتے۔ خواہش تو اس سے بھی آگے کی ہے لیکن وہ تو اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ البتہ کم از کم سیاسی منظر پر نوازشریف نہیں چاہیے۔ شہباز شریف سو فی صد قبول…. لیکن حتی الوسعیٰ کوشش ہوگی بہت کچھ منوا لیا جائے۔ اب اس میں کامیابی کتنی ملتی ہے….؟ بھئی شطرنج کی گیم ہے۔ جو کھلاڑی سمارٹ گیم کرے گا، جیتے گا۔ گیم کی ابتدائی چالیں عقاب والوں کے حق میں گئی ہیں۔ نوازشریف کو اب شاید ماننا ہی پڑگیا ہے۔ راستہ دو راستہ لو-شہبازشریف تک لیکن مکمل رسائی نہیں یعنی سفارتی رسائی توہوسکتی ہے بروکر کی نہیں۔۔۔ جو بھی ڈیل ہوگی شہباز شریف سے پہلے بڑے بھائی سے ہوگی۔


شہ مات پہ شہ مات آرہی ہیں۔ پیادے خطرے میں ہیں لیکن داد دینے والوں کا شور عقاب والوں کے لیے سوہان ِروح بنا ہوا ہے۔ پنجاب کی سرزمین میں میدان جنگ ہے اور لندن میں سپر سکس ہیروں کی پہلی چلی ہوئی چالیں بچانے کی بھی کوشش ہورہی ہے۔ گواہان ہوں یا اُنہیں لانے والے، سبھی کا انتظام عقاب والوں نے ہی تو کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ لاہور کے ایک کشمیری کی جرح پر ہی تلملاہٹ واضح ہے۔ مہرے مات ہوتے دکھائی دے رہے ہیں اور اس لیے بڑے گھر سے فیڈنگ کی جارہی ہے۔

بقول شخصے ”یوں نہیں بات یوں ہے۔ مہرہ سچا ہے یہی لکھیں۔“ لیکن کیا کیا جائے سرزمین انگلستان سے چیزیں سب کنٹرول تو نہیں ہوسکتی ناں

لاہو سنگھ کے شہر میں کھیل راول کے دیس سے چل رہا ہے۔ مقصد خادم کو ’’نوکر‘‘ بنانا ہے۔ یقین دہانی لینا ہے کہ ’’اثر رسوخ سے نکل کر وہی کچھ کرو گے جو کہا جائے گا‘‘۔ لیکن کیا کریں وقت اور حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے۔ دور دور بیٹھے چالباز سکڑی ہوئی نگاہیں ’’کھیل‘‘ پر جمائے بیٹھے ہیں اور اُن میں سے بہت سوں کے چہروں پر شرارت آمیز ہنسی اُبھر رہی ہے۔ مطلع صاف ہونے کے اشارے واضح ہونے لگے ہیں۔ عقاب والے آستینیں اور ماتھوں پر بل چڑھائے مطلوبہ نتائج کے لیے یکسو ہیں۔ اُن کے لشکرئیے اور گماشتے ، سب اپنا سا زور لگارہے ہیں۔ لشکر والے مشورے اور نئے نئے داؤ پیچ سکھارہے ہیں اور گماشتے ایجنڈے کو بڑھ چڑھ کر آگے لے جانے میں جُتے ہوئے ہیں۔ بلکہ ان میں سے اکثر تو شاہ سواروں سے بھی آگے نکل پڑرہے ہیں اور یہی وہ لمحات ہوتے ہیں جو دوربینوں کو اشارے دے جاتے ہیں اور وہ اپنے نتیجے اخذ کرلیتے ہیں۔ آوٹ کرنے والے لشکرئیے اور ان کے گماشتے نوازشریف کو ماضی کا حصہ کہہ رہے ہیں جب کہ اندر سے خوف کھایا جارہا ہے۔ ’’کہیں یہ نہ کردے، کہیں وہ نہ کردے، کیا کیا جائے نام تو ہے، سیاہی بہتیری مَلی لیکن مٹنے میں ہی نہیں آرہا‘‘۔ بہت قریب آکر بات کرنے والے بروکروں کو دوٹوک جواب مل چکا، نوازشریف کسی کو خاطر میں لانے کو تیار نہیں۔ عقاب والوں نے اپنے لشکریوں کو خوب بلوایا لیکن اب وہ خاصے ہلکے ہونے لگے ہیں۔ لوگ اسکرینوں پر شکل دیکھتے ہی فیصلہ کرلیتے ہیں ’’سُنا جائے یا نہیں، کچھ نیا نہیں ہوگا، جگالی کی جائے گی، کیوں نہ اسپورٹس چینل دیکھیں، ڈرامہ یا پھر مووی‘‘۔ جنہیں چسکا ہے وہ بھی اب روزانہ نہیں دیکھتےاور نہ ہی پڑھتے ہیں۔ ٹی وی دیکھنے کی تعداد میں کمی جتنی اِن دنوں واقع ہوئی ہے، پہلے کبھی نہ تھی۔ مشرف کے دورِ بوریت میں بھی اتنی نہ تھی۔ اب تو مسخروں کو بھی سیاسی اُلٹیاں کرتے دیکھ کر لوگ ٹی وی ہی بند کردیتے ہیں۔

اِدھر ”تختِ لاہور“ میں بھی کچھ فیصلے ہوچکے۔ فیصلہ ہے کہ ’’گیم‘‘ میں چاروں طرف کھیلا جائے ایک کے بعد دوسری چال، اور بات پر بات، یعنی ہر معاملے پر کھل کر بولیں، مظلوم اتنا بنیں کہ یہ آپشن کسی اَور کے لیے نہ رہے، باتیں اتنی کریں کہ سب بولنے پر مجبور ہوجائیں۔ مزاحمت اتنی کریں کہ کسی کو رستہ نہ ملے، لیکن مزاحمت اندر کھاتے۔ اور اب وہ وقت آگیا ہے کہ شہباز شریف کو سامنے لایا جائے۔

وہی ہے جو سب کے لیے جواب اور جواز ہوگا۔ چومکھی کے اصول نہیں ہوتے لیکن اعصاب کا امتحان اس سے زیادہ کہیں اور ہوتا بھی نہیں۔ چومکھی لڑی جارہی ہے اور وہ بھی حکومتی اعصاب کے ساتھ۔ یہ اضافی نمبر ہیں جو اُن کے پاس ہیں کسی اور کے پاس نہیں۔ یعنی اپوزیشن بھی اور حکومت بھی۔ قومی سطح پر موجود بے یقینی کی بڑھتی دُھند کو بھی اپنے حق میں لانے کی کوشش ہے۔ بے شک سجھائی کچھ نہ دے۔ اگر سجھائی نہیں دے رہا تو عقاب والوں کو بھی حد نگاہ کی دھندلاہٹ کا سامنا ہے۔ ایک چال چلتے ہیں تو دوسری کھو جانے کے خدشے جان نہیں چھوڑرہے، ایسے میں دھند اُس کے لیے فائدہ مند ہوگی جو ہجوم میں ہوگا۔ ایک ہاتھ نہیں تو دوسرا تو سُجھائی دے گا۔ الگ الگ پیچھے بیٹھ کر گیم کرنے والوں کے لیے نظر کے دھوکے حائل رہیں گے۔

پنڈت بھی اپنی مَنڈلی لگائے بیٹھے ہیں۔ کہتے ہیں ’’یہ سال اچھا ہے‘‘۔ پہلے پہل تو ہر کسی نے ایک ہی جیسا سمجھا، یعنی ہر کسی نے اپنے اپنے لیے اچھا سمجھا۔ اب جب زائچے کھلنے لگے ہیں تو کئی صفوں میں جھنجھلاہٹ ہے۔ اتنا کچھ کرنے کا کیا حاصل۔۔۔؟

زور لگایا، گھوڑے دوڑائے، سب سابق تجربے بروئے کار لائے گئے۔ نئے دور میں پرانے بیانیے ڈھونڈ کر لائے گئے، بیان دلوائے یہاںتک کہ خود بھی دئیے۔ گلے پھاڑے، رگیں بھی پھولائیں، کیا کیا نہیں کیا۔۔۔ ’’نہیں بھئی! پنڈت غلط کہہ رہا ہے‘‘، اب یہ نئی گردان سنائی جارہی ہے اور اپنے کماشتوں کو نئے سرے سے کمربستہ ہونے کا کہا جارہا ہے۔ حوصلے اور مورال بڑھائے جارہے ہیں۔ ”ہار نہیں ماننی ۔۔۔ ہارتا وہ ہے جو ہار مانتا ہے۔“ ایسے کئی اقوال پرانی کتابوں سے نکال کر الیکٹرونک کتابوں میں سجائی جارہی ہیں۔ تصاویر اور حوالے بھی دئیے جارہے ہیں تمام تر مذہبی استعارے استعمال کیے جارہے ہیں۔ اور حد تو یہ ہے بائیں بازو کے استعارے بھی استعمال میں لائے جارہے ہیں۔ وطن عزیز میں بیٹھ کر بالکل جنگی ماحول دِکھنے کو مل رہا ہے۔ طنابیں کَسی ہوئیں اور دنیاومافیہا سے بے خبر، ہرجانب طبلِ جنگ بج رہا ہے۔ ہم بھی کمال لوگ ہیں۔ اپنی دنیا خود ہی بناتے ہیں اور اسے مٹادیتے ہیں۔ پھر سے بناتے ہیں اور پھر مٹادیتے ہیں۔ بس اسی کھیل میں رہتے ہیں۔ اقبال کے شاہین جو ہوئے۔ انہوں نے کہا تو تھا:

’’اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے ‘‘

فی الوقت اجازت -اگلی ملاقات بہت جلد ہوگی، کچھ نئی خبروں کے ساتھ۔

میاں طاہر

(ادارے کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں)