سینیٹ الیکشن کیلئے اگر آئین کہتا ہے خفیہ ووٹنگ ہو گی تو بات ختم، چیف جسٹس

 سینیٹ الیکشن کیلئے اگر آئین کہتا ہے خفیہ ووٹنگ ہو گی تو بات ختم، چیف جسٹس
کیپشن:   سینیٹ الیکشن کیلئے اگر آئین کہتا ہے خفیہ ووٹنگ ہو گی تو بات ختم، چیف جسٹس سورس:   فائل فوٹو

اسلام آباد: سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ سے کرانے کے صدارتی ریفرنس میں چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ خفیہ ووٹنگ ہونی چاہیے یا نہیں فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی اور پارلیمان کا اختیار اپنے ہاتھ میں نہیں لیں گے۔

سپریم کورٹ میں سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ سے کرانے کے صدارتی ریفرنس کی سماعت ہوئی۔ رضا ربانی نے عدالت کو بتایا کہ کسی کو ووٹ ظاہر کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا اور عارضی قانون سازی کے ذریعے سینیٹ الیکشن نہیں ہو سکتا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اگر آئین کہتا ہے خفیہ ووٹنگ ہو گی تو پھر بات ختم، ریاست کے ہر ادارے نے اپنا کام حدود میں رہ کر کرنا ہے اور پارلیمان کا متبادل نہیں جو سوال ریفرنس میں پوچھے گئے اسی کا جواب دیں گے۔

وکیل بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ اٹارنی جنرل نے دلائل میں بتایا کہ قانون کیا ہونا چاہیئے اور 3 سال پرانی ویڈیو اچانک سامنے آ گئی۔ انتخابی عمل سے کرپشن ختم کرنا پارلیمان کا کام ہے۔ چیف جسٹس نے کہا تعین کرنا ہے سینیٹ الیکشن پر آرٹیکل 226 لاگو ہوتا ہے یا نہیں۔ سپریم کورٹ نے سینیٹ اوپن بیلٹ صدارتی ریفرنس پر سماعت کل تک ملتوی کر دی۔