پاکستان امریکا-چین خلیج دور کرانے میں اپنا کردار ادا کر سکتا ہے، وزیراعظم

پاکستان امریکا-چین خلیج دور کرانے میں اپنا کردار ادا کر سکتا ہے، وزیراعظم
کیپشن:   پاکستان امریکا-چین خلیج دور کرانے میں اپنا کردار ادا کر سکتا ہے، وزیراعظم سورس:   فوٹو/بشکریہ ریڈیو پاکستان

کولمبو: وزیراعظم نے کہا مسئلہ کشمیر صرف مذاکرات سے ہی حل ہو سکتا ہے کیونکہ جنگ مسائل کا حل نہیں اور برصغیر کے تمام تنازعات بات چیت سے حل کرنے کے خواہشمند ہیں اور جب تک ان مسائل سے نہیں نکلیں گی خوشحالی نہیں آئے گی۔ پاکستان امریکا اور چین کے درمیان بڑھتی خلیج کو دور کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی پیشکش کی ہے۔

ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ کانفرنس سے وزیراعظم عمران خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت سے کاروبار بڑھانے اور کشیدگی کم کرنے کیلئے رابطہ کیا لیکن کامیاب نہیں ہو سکے جبکہ مودی کو پیغام دیا مذاکرات کے ذریعے اختلافات ختم کریں اور برصغیر میں تمام تنازعات کو مذاکرات سے حل کرنے کے خواہاں ہیں۔ خطے کے ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات استوار کر کے غربت کم کر سکتے ہیںڈ عمران خان کا کہنا تھا کہ امریکا اور چین کے درمیان بڑھتی خلیج دور کرانے میں پاکستان اپنا کردار ادا کر سکتا ہے۔

وزیراعظم عمران خان کا اپنے خطاب میں مزید کہنا تھا کہ پاکستان سیاحت کے حوالے سے خوبصورت ملک ہے اور سری لنکا کو سیاحت، تجارت اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتا ہوں جبکہ پاکستان اور سری لنکا دہشتگردی سے متاثر رہے ۔ دہشتگردی کے باعث پاکستان اور سری لنکا کی سیاحت بھی متاثر ہوئی۔ انہوں نے سری لنکن سرمایہ کاروں کو سی پیک میں شمولیت کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ سی پیک کے ساتھ خصوصی اقتصادی زونز قائم کر رہے ہیں۔

وزیراعظم نے سری لنکن ہم منصب کو دورہ پاکستان کی دعوت دی اور کہا کہ دونوں ممالک میں کھیل کے فروغ کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہتا ہوں۔ کرکٹ پاکستان اور سری لنکا دونوں کی عوام کاپسندیدہ کھیل ہے۔

کانفرنس میں وزیراعظم عمران خان اور سری لنکا کے وزیراعظم مہندرا راجا پکسے نے شرکت کی۔ کانفرنس میں پاکستان کا قومی ترانہ بجایا گیا۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد اور سری لنکن سٹیٹ منسٹر فار کامرس اجیت نیوات نے بھی کانفرنس سے خطاب کیا۔

کانفرنس سے قبل وزیر اعظم عمران خان اور سری لنکن صدر کے مابین ون آن ون ملاقات ہوئی جس میں دونوں ممالک کے مابین باہمی تعلقات کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔