پیپلز پارٹی کو کسی ادارے سے غیر جمہوری سپورٹ نہیں چاہیے، بلاول بھٹو زرداری

 پیپلز پارٹی کو کسی ادارے سے غیر جمہوری سپورٹ نہیں چاہیے، بلاول بھٹو زرداری
کیپشن:    پیپلز پارٹی کو کسی ادارے سے غیر جمہوری سپورٹ نہیں چاہیے، بلاول بھٹو زرداری سورس:   فائل فوٹو

لاہور: پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا جب ہر ادارہ اپنا کام کرے تو خوشی ہوتی ہے تاہم ہمیں کسی ادارے سے غیر جمہوری سپورٹ نہیں چاہیے۔

پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا آج تک بظاہر لگ رہا ہے کہ سینیٹ الیکشن میں ادارے نیوٹرل رول ادا کر رہے ہیں اور ہم تنقید تب کرتے ہیں جب کردار نیوٹرل نہیں ہوتا۔

ان کا کہنا تھا کہ میثاق جمہوریت میں موقف تھا کہ سینیٹ الیکشن میں صیح طریقہ کار اپنایا جائے اور خفیہ بیلٹ کو کہیں چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ہم نے سینیٹ الیکشن کو بہتر کرنا ہے تو صرف پارلیمان اور ڈائیلاگ سے ہو سکتا ہے۔ تحریک انصاف صرف اپنے فائدے کے قانون لانا چاہتی ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم تو چاہتے ہیں چارٹر آف ڈیموکریسی پر عمل ہو جبکہ اگر قانون اور آئین میں تبدیلی لانی ہے تو پارلیمان میں ہو سکتی ہے۔ آئین میں ترمیم کرنے کے لیے دوسری جماعتوں سے رائے نہیں لی جاتی۔ کبھی الیکشن کمیشن اور کبھی سپریم کورٹ کے کندھوں پر بندوق چلانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ عدلیہ اور الیکشن کمیشن بھی آئینی وقانونی راستہ اپنائے گا۔ اگر ایسے ہوگا تو چارٹر آف ڈیموکریسی اور پاکستان کے فائدے میں ہوگا۔ امید ہے سینیٹ الیکشن ختم ہونے کے بعد قانون سازی کر سکتے ہیں۔ سیاسی اور معاشی فیصلے پارلیمان کو کرنے چاہیں لیکن جب ناجائز، نالائق اور کٹھ پتلی کو مسلط کیا جائے تو پھر سب کو بوجھ اٹھانا پڑتا ہے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ ہماری کوشش ہے کہ ایسی حکومت بنے جو عوام کا بوجھ اٹھائے۔ افغانستان اور بنگلا دیش ہم سے آگے نکل گئے۔ 

اس موقع پر سینیٹ الیکشن میں پی ڈٰی ایم کے مشترکہ امیدوار یوسف رضا گیلانی اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔