دھونس، دھاندلی کے باوجود عوام نے" ووٹ کو عزت دو "کی جنگ لڑی، مریم نواز

دھونس، دھاندلی کے باوجود عوام نے
کیپشن:   دھونس، دھاندلی کے باوجود عوام نے" ووٹ کو عزت دو "کی جنگ لڑی، مریم نواز سورس:   فائل فوٹو

وزیر آباد: مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر آباد کی مسلم لیگ کی الیکشن ٹیم کے ذمے داروں کوشاباش دیتی ہوں کیونکہ دھونس، دھاندلی کے باوجود عوام نے" ووٹ کو عزت دو "کی جنگ لڑی اور ووٹوں پر ڈاکہ ڈال کر بھاگنے والوں کو شیروں نے پکڑا کیونکہ جب تھیلے چرا کر بھاگ رہے تھے تو ہمارے شیروں نے پکڑا۔

انہوں نے کہا ن لیگ اور نواز شریف کو اپنے ورکرز پر فخر ہے اور ہر صو بے سے پے در پے شکست عمران خان کا مقدر بنی اور وزیر آباد کے لوگوں نے آٹا، بجلی اور گیس چوروں کا مقبرہ بنا کر انہیں دفن کر دیا ہے تاہم ہر صوبے سے شکست دیکھ کر عمران خان نے ڈسکہ کی سیٹ پر ڈاکہ ڈالا کیونکہ یہ الیکشن نہیں آٹا اور بجلی چوروں کے خلاف ریفرنڈم تھا۔

ان کا اپنے خطاب میں مزید کہنا تھا جکہ پنجاب میں شہباز شریف کی حکومت نہیں تھی تو کیا پنجاب کو لاوارث سمجھ لیا تھا۔ پنجاب نے ڈاکہ نہیں ڈالنے دیا بلکہ ووٹ چور پکڑ لیے اور نواز شریف نے لندن میں بیٹھ کر بھی ان کے گھر میں گھس کر مارا ہے۔

مریم نواز نے یہ بھی کہا کہ پنجابی جاگ جاتے ہیں تو گھر تک چھوڑ کر آتے ہیں اور بُری طرح ہارنے پر شرم بھی نہیں آتی اور اب کہتے ہیں ووٹ بڑھ گیا ہے لیکن مریم کے پاپا ووٹ چوروں کو رلائیں گے۔ وزیر آباد اور ڈسکہ میں فائرنگ کر کے خوف پھیلایا گیا لیکن یہاں کے عوام نے 2018 کے الیکشن کا پول کھول دیا اور اب پرانے پاکستان کو واپس لا کر ہی دم لیں گے۔

مریم نواز نے کہا 20 پولنگ اسٹیشنز کا عملہ ہی غائب کر دیا گیا کیونکہ اس سے پہلے ووٹ چوری تو سنا تھا لیکن عملہ چوری کبھی سنا تھا۔ 2018 میں باکس چوری ہوئے اور 2021 میں عملہ ہی چوری ہو گیا بڑی ترقی کی ہے۔ کسی نے عینک ٹوٹنے، کسی نے دھند اور گاڑی خراب ہونے کا بہانہ بنایا تاہم الیکشن کمیشن نے خود یہ بات کہہ دی کہ 20 افسران اغوا ہو گئے تھے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ پورے ڈسکہ کا دوبارہ الیکشن ہونا چاہئے کیونکہ اب چند پولنگ اسٹیشن پر نہیں بلکہ پورے حلقے میں ری الیکشن ہو گا کیونکہ ڈسکہ اور وزیر آباد کل بھی نواز شریف کا تھا اور آج بھی ہے۔ انہوں نے کہا نوازشریف پر الزام لگا کر باہر رکھنے کی کوشش کی گئی اور فراڈ شیٹ کو نواز شریف کے خلاف ثبوت لانے کا کہا گیا تاہم پکڑنے کے بجائے نواز شریف کو 45 لاکھ دے کر گئے۔