غیر قانونی ویب سائٹس تک رسائی حاصل کرنے والے افراد کے خلاف اہم حکم جاری

غیر قانونی ویب سائٹس تک رسائی حاصل کرنے والے افراد کے خلاف اہم حکم جاری

بیجنگ: بچوں اور بڑوں کے لیے ہر ملک میں متعدد ویب سائٹس کو بند کیا جاتا ہے ۔ اکثر ان میں پورن سائٹس بھی ہوتی ہیں ۔ دوسرے ملکوں کی کی طرح چین میں بھی ایسی ویب سائٹس کو بند کرنے کے احکامات جاری کیئے گئے ہیں ۔ تاہم اب چینی حکومت نے ایسے افراد اور اداروں کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کااعلان کردیاجوچین میں انٹرنیٹ پر ممنوعہ ویب سائٹس تک غیرقانونی طریقے سے رسائی حاصل کرتے ہیں۔


’کلین اپ‘ نامی مہم 14 ماہ تک چلے گی اور اس کے ذریعے انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کرنے والے اداروں اور ان عام افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی، جو سینسر کردہ انٹرنیٹ مواد تک غیرقانونی طریقے سے رسائی حاصل کرتے ہیں۔واضح رہے کہ چین میں گوگل، فیس بک اور ٹوئٹر سمیت کئی ویب سائٹس کے استعمال پر پابندی عائد ہے، مگر کئی افراد ورچوئل پرائیوٹ نیٹ ورکس(وی پی این ایس)کے استعمال سے ممنوعہ ویب سائٹس تک رسائی حاصل کرلیتے ہیں۔

وی پی این ایس ایک ایسا سسٹم ہے، جس کے ذریعے صارف کی ملک میں ممنوعہ ویب سائٹس تک رسائی حاصل ممکن ہوجاتی ہے، یہ نظام صارف کی شناخت اور لوکیشن بھی خفیہ رکھتا ہے اور اس کے تحت صارف تمام ملکی و غیر ملکی ممنوعہ ویب سائٹس تک رسائی حاصل کرسکتا ہے۔خبر رساں ادارے کے مطابق چین کی حکمراں کمیونسٹ پارٹی ایسے تمام حساس موضوعات پر انٹرنیٹ پرموجود مواد کو سنسر کرتی ہے جس سے ملک میں سیاسی بے چینی یا انتشار پھیلنے کا خدشہ ہو۔چین میں اس حوالے سے گزشتہ برس نومبر میں متنازع سائبر سیکیورٹی بل بھی منظور کیا گیا تھا۔سائبر سیکیورٹی بل کے تحت جہاں آزادی اظہار پر قدغن لگائی گئی وہیں اس بل کے تحت انٹرنیٹ فراہم کرنے والے اداروں پر بھی نئی پابندیاں عائد کی گئیں۔

انٹرنیٹ فراہم کرنے والے اداروں اور افراد کی جانب سے سائبر کرائم بل کی خلاف ورزیاں کرتے ہوئے وی پی این ایس سسٹم کو استعمال کیے جانے کی شکایتیں منظر عام پرآئیں، جس کے بعد حکومت نے کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا۔ واضع رہے کہ پاکستان میں بھی ممنوعہ ویب سئائٹس کو کھولنے والے افراد کے لیے سزا کا تعین کیا گیاہے ۔