عہدہ صدارت کے دوران وائٹ ہاوس میں ٹشو پیپرزبھی خریدنا پڑتے تھے، اوباما

عہدہ صدارت کے دوران وائٹ ہاوس میں ٹشو پیپرزبھی خریدنا پڑتے تھے، اوباما

واشنگٹن :امریکا کے سابق صدر باراک اوبامہ کا کہنا ہے وائٹ ہاوس میں سب کچھ خریدنا پڑتا تھا یہاں تک کہ ٹشوپیپرز بھی مفت نہیں ملتے تھے بلکہ خریدنا پڑتے تھے، ٹوتھ پیسٹ اوراورنج جوس بھی مفت نہیں ملتا۔ مہینے کے آخر میں گھر کا خرچ دینا پڑتا ہے، چھٹیاں بھی اپنے خرچ پر ہوتی ہیں۔


انہوںنے بتا یا کہ وائٹ ہاوس میں وہ اپنی اور اپنے گھروالوں کی ذاتی استعمال کی اشیااپنے پیسوں سے خریدتے تھے ۔صحافی نے سوال کیا کہ آخری مرتبہ کب اپنی جیب سے خرچ کیا ؟ اس پر انہوں انہوں نے جواب دیا کہ” ایک چیز جو مجھے بے چین رکھتی تھی وہ یہ کہ لوگ کیا کہتے ہونگے کہ جب ہم چھٹیوں پرہوتے ہیں ۔

لوگ کہتے ہونگے کہ ہم عوام کے ٹیکس پر مزے اڑارہے ہیں لیکن ایسا نہیں ،میں اس متعلق تمام اخراجات خود برداشت کرتاتھا،انہوں نے مزید بتایا کہ واحد چیز جس کے لیے میں خرچ نہیں کرتا تھا وہ سیکریٹ سروس کاجہاز اور رابطے ،کیونکہ میراان پر کوئی اختیار نہیں تھا۔

ہر مہینے کے آخر میں مجھے گروسری کا بل اداکرنا ہوتا تھا لیکن یہ بھی سچ ہے کہ میرا پرس اکثر میرے ساتھ نہیں ہوتا تھا،ان کا مزید کہنا تھااب وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ وقت گزاریں گئے کچھ اہم کرنے والے تھے جو  وہ پہلے نہیں کر سکے