بیوی کے کھانے کا مذاق اڑانا جرم نہیں ہے،ممبی ہائی کورٹ

بیوی کے کھانے کا مذاق اڑانا جرم نہیں ہے،ممبی ہائی کورٹ

نئی دہلی: بیوی کےکھانوں کا مذاق اُڑانا ظلم نہیں ہے ملک میں جاری و ظلم وستم کے کچھ اور بھی رویے ہیں یہ بیان ممبئی ہائی کورٹ نے ایک شخص کی ضمانت کی منظوری کے دوران دیئے ہیں اس کے علاوہ بیوی کو مارنا اور انگلش بولنے میں کمی کا مذاق اُڑانا بھی قانون کی زبان میںظلم وستم کے مترادف نہیں ہے۔بنیادی طور پر اس شخص پر الزام تھا اس نے اپنی بیوی کو خودکشی پر اُکسایا ہے اور ظلم وستم کیا


بھارتی اخبار کا کہنا ہے کہ ذہنی صدمے اور جذباتی زیادتی کے بارے میں عدالت کا یہ رویہ خطرناک ہونے کی نشانی ہے۔ گجرات کی عدالت نے بھی 2015 میں ایک عورت کی جانب سے سسرالیوں کی زیادتی کے مقدمہ میںججز نے ریمارکس دیئے تھے کہ محض مار اور سسرال کا سخت رویہ ظلم کے مترادف نہیں او ر یہ جرم ایسا نہیں کہ اس پرایف آئی ار درج کرائی جائے۔اگر ظلم کی تشریح کی جائے توبھارتی عدالتی نظام میں تضادنظر آتاہے کیونکہ دہلی ہائی کورٹ کہتی ہے کہ میاں بیوی کے درمیان عزت اعتماد اور احترام کی کمی بھی ظلم کی حد میں آتی ہے ۔