ایس ایس پی راؤ انور کے خلاف قتل ، انسداد دہشتگردی کا مقدمہ درج

کراچی : کراچی میں ملیر کے تھانے سچل میں ایس ایس پی راؤ انور کے خلاف قتل اور انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقتول نقیب اللہ کے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق محمد خان محسود نے ایف آئی آر میں بتایا ہے کہ تین جنوری کو مبینہ طور پر راؤ انوار کے سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکار ان کے بیٹے نقیب اللہ ، حضرت علی اور قاسم کو اٹھا کر لے گئے بعد میں 6 جنوری کی شب حضرت علی اور قاسم کو سپر ہائی وے پر چھوڑ دیا لیکن راؤ انوار نے نقیب اللہ کو قید رکھا اور اس کے موبائل فون بھی بند کر دیئے۔

ایف آئی آر میں بتایا گیا کہ نقیب اللہ کے رشتے دار اس کی تلاش کرتے رہے لیکن معلوم نہیں ہوا۔ ان کے والد نے ایف آئی آر میں کہا کہ 17 جنوری کو ٹی وی اور اخبارات سے انھیں معلوم ہوا کہ ان کے بیٹے کو راؤ انوار اور اس کے اہلکاروں نے جعلی مقابلے میں ہلاک کردیا لہٰذا ان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا جائے۔

پولیس انسپیکٹر شاکر نے ایف آئی آر میں تحریر کیا ہے کہ اس واقعے کی وجہ سے عوام میں دہشت اور خوف و ہراس پھیلا اس لیے اس میں انسداد دہشت گردی کی بھی دفعہ شامل کی گئی ہیں۔