جلد انصاف کی فراہمی کی ابتدا سانحہ ماڈل ٹاون کیس سے کی جائے: ڈاکٹر طاہر القادری

لاہور : پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے کہا ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاون کے انصاف کے لیے قانونی جدوجہد کا راستہ ایک لمحہ کے لیے بھی ترک نہیں کیا،  اے ٹی سی میں ایک سال کی گواہیوں کے بعد استغاثہ فروری 2017میں منظور ہوا اور  آئی جی سمیت  125  ملزمان طلب کئے گئے مگرمزید ایک سال گزرجانے کے بعد بھی فرد جرم عائد نہ ہو سکی،سانحہ ماڈل ٹاون کے انصاف کے لیے شہبازشریف اور حواریوں کے استعفیٰ کے مطالبہ کی حمایت کرنے پر تمام جماعتوں کے مشکور ہیں، انصاف کی جلد فراہمی کے لیے ابتدا سانحہ ماڈل ٹاون کیس سے کی جائے۔

ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا   کہ جب بر وقت انصاف نہیں ملتا تو پھر عوام سڑکوں پر نکلتے ہیں،ہماری افرادی قوت کے بارے میں ہمارے دوست اور دشمن اچھی طرح واقف ہیں، جب ضرورت پڑی تو قاتل ٹولے کی غلط فہمی کو  دور  کر دیں گے،ہمارے کارکنوں کوتیاری کے لیے 24گھنٹے سے زیادہ وقت درکار نہیں ہوتا۔

انہوں نے کہا  کہ سانحہ کے منصوبہ ساز نواز شریف اور شہباز شریف سمیت جملہ حواریوں کی طلبی کے لیے لاہور ہائیکورٹ سے بھی رجوع کر رکھا ہے اور سانحہ کے قتل عام کے منصوبہ سازوں کی طلبی کے لیےہر حد  تک جائیں گے، انہوں نے کہا  کہ سانحہ ماڈل ٹاون کے قتل عام کے ملزمان نواز شریف،شہباز شریف انصاف کے راستے کے سب سے بڑے  پتھر  ہیں انہیں ہٹائے بغیر انصاف نہیں ملے گا،جسٹس باقر نجفی کمیشن کی رپورٹ میں شہباز شریف اور راناثناء اللہ کا نام درج ہے ان کی طلبی کے لیے از سر نو غیر جانبدار تفتیش ناگزیر ہے،مگر جب تک یہ قاتل ٹولہ مسلط ہے غیر جانبدار جے آئی ٹی کی تشکیل اور تفتیش ناممکن ہے۔

ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ آئندہ کا لائحہ عمل بھی جلد آئے گا تمام سیاسی جماعتوں نے اس بات پر مہر لگا دی کہ سانحہ ماڈل ٹاون کے ذمہ دارشہباز شریف اور حواری ہیں اور انہیں کٹہرے میں لایا جائے گا۔ سربراہ عوامی تحریک نے شہدائے ماڈل ٹائون کے ورثاء کے انصاف کے لیے برسر پیکار  قانونی ٹیم کو ہدایت کی کہ قانونی جدوجہد میں مزید تیزی لائی جائے،انہوں نے کہا کہ سفاک قاتل اپنے انجام سے کسی صورت بچ نہیں پائیں گے۔

ڈاکٹر طاہر القادری نے مزید  کہا  کہ معصوم زینب کے معاملے میں قاتل اعلیٰ پنجاب نے بازاری پن کی انتہاء کر دی،تالیاں بجا کرمظلوم خاندان کے زخموں پر نمک چھڑکا  گیا  اور سیاست چمکائی گئی، انہوں نے کہا کہ مقتولہ زینب کی والدہ نے درست کہا کہ اگر زندہ بچی گھر   آتی تو  انہیں تالیاں بجانے کا حق تھا۔

انہوں نے تالیاں بجا  کر ہمارے زخموں پر نمک چھڑکا، دریں اثناء عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے شیخ رشید احمد کو ٹیلی فون کر کے ان کی خیریت دریافت کی اور ان کی جلد صحتیابی کے لیے دعا  کی۔


مصنف کے بارے میں