سپریم کورٹ سے ایسے فیصلے چاہتے ہیں جس پر ججز کو ندامت نہ ہو: رانا ثنا اللہ


فیصل آباد:صو با ئی وزیر قا نون رانا ثناء للہ خاں نے کہا کہ سپریم کورٹ سے ایسے فیصلے چا ہتے ہیں جس پر بعد میں قا بل احترام ججز کو ندا مت نہ ہو میاں نوا شریف نظام عدل کی حکمرانی کی جنگ لڑ رہے ہیں عدلیہ پر تقید نہیں اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں عدلیہ کے خلاف محاذ آرائی نہ پہلے کی اور نہ ہی اب کر یں گے عدلیہ کے نظام کی بہتری اور سستے انصاف کے لیے تحریک چلا رہے ہیں ن لیگ عدلیہ کے نظام میں اصلا حات کر نا چا ہتی ہے اس کو آئین سے متصا دم نہ سمجھا جا ئے ملک میں نظام عدل کی بحا لی کے لیے کو شاں ہیں پاکستان کسی جنگ کے نتیجے میں نہیں ووٹ کی طا قت سے حا صل کیا گیا تھا آج اسی نظام کے تحت میاں نواز شریف ہر پاکستا نی کو گھر کی دہلیز پر سستا اور جلد انصاف چا ہتے ہیں عوام کی بالا دستی چا ہتے ہیں


پریس کا نفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میاں نواز شریف کے خلاف عدلیہ کے فیصلے کو عوام نے تسلیم نہیں کیا ذوالفقار علی بھٹوکو پہلے سپریم کورٹ نے پھانسی پر لٹکا یا وہ جج سپریم کورٹ کا چیف جسٹس بنا پھر اس نے اپنی کتاب میں لکھا کہ فیصلے کے وقت ہم پر پریشر تھا اپنے ہی فیصلے پر ندا مت کا اظہار کیا ایک وقت آئے میاں نوا شریف کے خلاف ہو نے والے فیصلے پر بھی سپریم کورٹ اصل حقا ئق بتا ئے گی انہوں نے کہا کہ اللہ تعلی کی ذات کے بعد عوام زمین پر اس کے نما ئندے ہیں اور وہی نما ئندے ووٹ کے ذریعے اپنے نما ئندے منتخب اسمبلیوں میں بھیجتے ہیں ان پر لعنت بھیجنے والے خود پڑئے لعنتی ہیں پوری قوم نواز شریف کی طرف دیکھ رہی ہے عوا می سپورٹ ن لیگ کے ساتھ ہے الیکشن 2018میں پہلے سے زیادہ مینڈیٹ لیکر حکو مت بنا ئیں عوام کی خدمت ہمارانصب الالعین ہے اسے ہر صورت جا ری رکھیں گے


انہوں نے کہا کہ جڑانوالہ جلسہ ریفرنڈم ہوگا اور عوام کا ن لیگ کے حق میں فیصلہ بھی انہون نے کہ تا ریخ کے سب سے بڑئے جلسے میں عوام کا ٹھا ٹھیں مارتا ہوا سمند ر مخا لفین کی نیدیں حرام کر دیگا انہوں نے کہ پاکستان کی فرانزک لیب دنیا کی دوسری بڑی اور ایشیاء کی سب سے بڑی لیب ہے جس کے تمام کراکنوں نے دن رات کام کر کے زینب کت قا تل پکڑے اگر یہ لیب نہ ہو تی تو قا تل کا اتنی جلدی پکڑا جانا ممکن نہیں تھاقاتل پکڑنے مین جن ادارون نے دن رات کام کیا وہ سب مبارک باد کے مستحق تھے انکی حو صلہ افزا ئی بھی ضروری تھی ملزم کو مجرم ثا بت کر نا اداروں کا کام ہے اور قا تل کو سزا دینا عدا لتوں کا کا ہے۔