موبائل فون کارڈپر ٹیکس لگانے کا فیصلہ واپس

موبائل فون کارڈپر ٹیکس لگانے کا فیصلہ واپس
فوٹو: بشکریہ پی آئی ڈی ویب سائیٹ

اسلام آباد : حکومت نے موبائل فون کارڈز پر30 فیصد ٹیکس دوبارہ لگانے کا فیصلہ واپس لے لیا، موبائل فون کارڈز پر ٹیکس نافذ کرنے کا معاملہ جون میں دوبارہ زیر غور لائے جانے کا امکان ہے۔


تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز منی بجٹ پیش کیے جانے سے قبل خبر سامنے آئی کہ موبائل فون کارڈ پر 30 فیصد ٹیکس نافذ کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔جس کے بعد صارفین کو 100روپے کا کارڈ چارج کرنے پر 70 روپے کا بیلنس ملے گا۔عدالت نے موبائل فون پر ٹیکس ختم کیا تھا اور صارفین نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو خوب سراہا تھا۔تاہم اب حکومت نے ان تمام خبروں کی تردید کردی ہے۔

حکومتی ذرائع کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ موبائل فون کارڈز پر ٹیکس دوبارہ سے نافذ کرنے کا فیصلہ واپس لے لیا گیا ہے۔ ٹیکس ختم کرنے سے حکومت کو 1 کھرب روپے تک کے نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جس میں وفاقی حکومت کو 45 ارب روپے جبکہ صوبائی حکومت کو 55 ارب روپے تک کے نقصان کا سامنا ہے۔تاہم اس کے باوجود فی الحال ٹیکس دوبارہ نافذ نہیں کیا جائے گا۔ ٹیکس دوبارہ سے نافذ کرنے کا معاملہ جون میں دوبارہ زیر غور لایا جائے گا۔

یاد رہے کہ جون میں سابق چیف جسٹس  ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں موبائل فون کارڈز پر ٹیکس کٹوتی کے خلاف از خود نوٹس کیس کی سماعت کی۔جس کے بعد سپریم کورٹ نے موبائل کارڈز پر سروس چارجز ود ہولڈنگ ٹیکس اور ایکسائز ڈیوٹی کو معطل کر دیا تھا۔