دیسی میم…… اور ہمارا انگلش سے ٹکراؤ……

دیسی میم…… اور ہمارا انگلش سے ٹکراؤ……

”میں نے ABC والا قاعدہ چھٹی جماعت میں شروع کیا تھا ……“

 پہلے تو احمد کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا…… اور پھر اس نے قہقہے لگاتے ہوئے دیوار کے ساتھ ٹکر دے ماری…… اور ہنستے ہوئے بولا ”سچی پاپا! آپ نے ABC والا قاعدہ چھٹی کلاس سے شروع کیا تھا؟“

”Yes“ میں نے تنی ہوئی گردن کو مزید سیدھا کرتے ہوئے۔ 

بولا”…… کیسا لگتا ہو گا منظر جب 5 فٹ 5 انچ قد والے لڑکے لڑکیاں A سے Apple پڑھتے ہوں گے اور چھٹی کلاس کے پہلے تیس دن محض A سے Z تک رٹا لگانے میں گزر جاتے ہوں گے۔“

میں بھی جب تصور کرتا ہوں …… تو حیران ہو جاتا ہوں۔ میری بھی ہنسی نکل جاتی ہے یہ سوچ کر کہ با قاعدہ لمبا اور اونچا جوان بچہ Capital words اور پھر Small ABC ادا کرتا اور جب ہم نے چھٹی کلاس میں What is your name? کہنا شروع کیا تو یوں لگے جیسے شہزادہ چارلی ہمارے رشتے میں کچھ لگتے ہوں …… ہمیں شلوار کے اوپر T Shirt پہنے جب احساس ہوتا کہ ہم تو اب انگریزی سیکھ رہے ہیں تو ہمیں یورپ جانے کی خواہش بھی ہونے لگی لیکن بیڑا غرق ہو…… ان بے غیرت دہشت گردوں کا جنہوں نے ہمیں دنیا جہان سے کاٹ کر رکھ دیا۔ پاکستان کو اربوں ڈالر کی Income سے محروم کر ڈالا۔ جب ہم نے بک پڑھنا شروع کیا تو اس وقت سیاست عروج پر اور پاکستان پوری دنیا سے آنے والے لاکھوں سیاحوں کا مسکن تھا۔ حسین و جمیل جوان لڑکیاں اور نہایت نوجوان گورے گوریوں کی صورت میں لاہور کے ریلوے سٹیشن پر براجمان ہوتے۔ وہ دلکش ماحول What's your name? کہنا مزیدار لگتا جواب میں وہ کہتے …… Miss aina یا مس کرسٹینا ہمیں کچھ سمجھ آتا کچھ نہ آتا ……پھرسے پنجابی…… میں پوچھتے…… سمجھ نئی آیا۔

 وہ کہتی ”سوری“ اور یوں ہماری Vocallibery میں نئے لفظ کا اضافہ ہو گیا۔ لفظ سوری کے آجانے سے What's your name? جیسے فقرے سے ہماری جان چھوٹ گئی ……میں نے ”ایپل“ کے بعد جو انگریزی کا لفظ رٹا لگا یا وہ تھا ”Grapes“…… 

بہت سال بعد ایک دفعہ میں جہاز میں سفر کر رہا تھا کہ دوسری طرف ایک نوعمر خاتون اپنے ایک بیٹے اور ایک بیٹی کے ساتھ بیٹھی تھیں وہ چھوٹے بچوں کے 

ساتھ English میں بات کرتی تو مجھے اپنی چھٹی کلاس یاد آگئی …… جہاں ہمیں ”انگریزی“ زبان ایک عذاب دکھائی دیتی تھی۔ ”جی کیا فرمایا میتھ……“ وہ تو خیر سے ہمارے لیے اب بھی عذاب ہے۔ تو میں بتا رہا تھا ان خوبصورت بچوں کا وہ فرفر انگریزی بولتے جا رہے تھے اور ماں بھی خوش تھی کہ ہم بھی کمال روانی سے انگلش بول رہے ہیں اور جہاز میں بیٹھے لوگ متاثر ہو رہے ہیں۔ ہم بحیثیت قوم ابھی تک English، English بولنے والوں اور English حکمرانوں سے متاثر ہیں اور بہر حال میں English کو Superior زبان کا درجہ دینے پر خود ہی بضد ہیں۔ دنیا کے کروڑوں لوگ آج بھی کورئین ……جاپانی…… فرانسیسی زبان فخر سے بولتے ہیں اور دوسروں کو یاد کراتے ہیں کہ ہم English نہیں بولیں گے ایسے ہی اربوں لوگ چین میں English سے نابلد ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں اور دنیا کو بتاتے بھی ہیں کہ ہماری زبان Chines دنیا کی سب سے اہم زبان ہے۔ نئی نسل کو رئین گانے سنتی ہے اور کورئین گلو کاروں کے اربوں میں Likes ہیں جیسا کہ ہمیں پشتو پنجابی سندھی سے بہر حال تعلق رکھنا چاہیے۔ شکر ہے اب Chines بھی پاکستان میں گلی محلے میں بولی جاتی ہے اور پشتو میوزک اور کسی حد تک زبان بھی پورے پاکستان میں سمجھی جاتی ہے۔ دوسری طرف Russian بلاک میں بستے کروڑوں انسان بھی English زبان سے نابلد ہیں اور انہوں نے اس زبان کی Superiority ماننے کی کبھی کوشش نہیں کی۔ روسی ادب دنیا کا عالی شان ادب تسلیم کیا جاتا ہے۔ لیو ٹالسٹائی بہت بڑا ادیب گزرا ہے جو روسی تھا اور اپنے روسی شہری ہونے پر فخر محسوس کرتا تھا لیو ٹالسٹائی کے ناول ”جنگ اور امن“ پر سپرہٹ فلم بھی بنی۔ خوشی اور آپ کے علم میں اضافے کے لیے بتاتا چلوں کہ ٹالسٹائی بھی ساری زندگی بیوی کے ظلم سہتا رہا۔ ٹالسٹائی امیر ماں باپ کا بیٹاتھا اس کامحل سوسے زیادہ کمروں پر مشتمل تھا لیکن اس کی بیوی نے اسے ہر دم دبا کر رکھا اور صبح شام لعن طعن کرتی رہتی۔ ممکن ہے وہ ناول نگاری کے ساتھ ساتھ باورچی خانے میں برتن دھونے، گھر میں پوچا لگانے میں بھی ماہر ہو۔ کیونکہ جس طرح اس نے اپنی ناکام شادی شدہ زندگی کا ذکر کیا اس سے میں نے اندازہ لگایا ہے کہ دنیا بھر میں اکڑ اکڑ کے چلنے والے مردوں کی ہم پاکستانیوں کی طرح ……گھروں میں بیویوں کے ہاتھوں ”ایک سی ہی خاطر مدارت ہوتی ہے“ یا پھر ”نوکر ووہٹی دا بن کے رہیں؟“ 

ہاں تو میں بتا رہا تھا جہاز کے سفر کے دوران ساتھ والی سیٹ پر بیٹھی عورت کی بات جس کے چھوٹے بچے ”فرفر“ بلکہ ”تڑ تڑ“ انگلش بول رہے تھے۔ ماحول بڑا اچھاتھا…… مجھے بس، ٹرین جہاز یہاں تک کہ ٹانگے اور چنگ چی میں سواری کے دوران بھی نیند آجاتی ہے۔ نیند تو آرہی تھی لیکن اس آس میں میں سو نہیں رہا تھا کہ شاید خوبصورت ایئر ہوسٹس آدھے گلاس جوس کے ساتھ کچھ کھانے کو بھی دے دے…… اس دوران اونگھ آئی تو میرے ہمسائے میں شور سا بلند ہوا…… ”فرفر“ انگلش بولنے والے بچوں کی اماں نے ان پھول سے بچوں کی پنجابی زبان میں ”بے عزتی“ کرنا شروع کر دی…… اس نے بچے سے پوچھاDo you likes to eat Grapes?…… 

بچہ…… شرماتے ہوئے……No Mom

پھر اس نے چھوٹی بچی سے پوچھاWhat about you?

بچی ……محبت سے شرماتے ہوئے No Mom, I do not like۔

نہایت سلیقہ شعار،Sober English کی ماہر اعلیٰ شخصیت کی مالک کے اندر چھپی پنجابی ماں جاگ اٹھی…… اس کا چہرہ سرخ ہو گیا…… میک اپ جو اس نے ضرورت سے زیادہ چہرے پر چڑھا رکھا تھا غصے کی وجہ سے وہ پگھل گیا اور وہ کوہ قاف کی چڑیل لگنے لگی پہلی قسط میں نیند کے باعث دیکھ نہ پایا…… دوسری قسط میں جو نہی چھوٹی بچی نے Grapes کھانے سے انکار کیا تو وہ گر جی ”تینوں کھانے پین گے ……چل جلدی چبا Grapes۔“

میرا دل چاہا میں کہوں باجیGrapes چبائے نہیں جاتے؟

”Shoes ماروں چک کے …… Idiot کتے دا پتر... وغیرہ وغیرہ۔“

میں نے دیکھا کہ ایئر ہوسٹس بھی سہم گئی…… تمام مسافروں کو جیسے سانپ سونگھ گیا ہو……

 میں نے چوری چوری ادھ کھلی آنکھوں سے دیکھا کس قدر خوفناک منظر تھا مت پوچھیں۔

بے چارے دونوں بچے Grapes چبار ہے تھے اور ظالم ماں نے ایک ہاتھ میں Shoes پکڑا ہوا تھا جہاز چونکہ Land کرنے والا تھا اس لیے پائلٹ نے ہلکا ہلکا میوزک آن کر دیا تھا۔ وہ مسعود رانا کا پرانا گانا لگ رہا تھا ……

”چپ کر کے گڈی دے وچ بہہ جا

بولیں گی چپیڑ کھائیں گی“