دہشت گردی کی دھمکیاں اب بھی موصول ہورہی ہیں،سیکریٹری الیکشن کمیشن

دہشت گردی کی دھمکیاں اب بھی موصول ہورہی ہیں،سیکریٹری الیکشن کمیشن

image by facebook

اسلام آباد:الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کے سیکریٹری بابر یعقوب کا کہنا ہے کہ ہمیں اب بھی امن عامہ کے چیلنجز درپیش ہیں اور ہمیں ابھی تک دہشت گردی کی دھمکیاں موصول ہورہی ہیں۔

اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے بابر یعقوب نے سوشل میڈیا پر بیلٹ پیپرز کے حوالے سے سامنے آنے والی تصاویر سے متعلق کہا کہ سوشل میڈیا پر تصاویر شیئر ہونے کے بعد ہم نے تحقیقات کی تو پتہ چلا کہ کچھ بیلٹ پیپرز پرانے الیکشن کے تھے، کہیں بلدیاتی حکومت کے بیلٹ پیپرز بھی نظر آئے جبکہ فرضی بیلٹ پیپرز بھی سامنے آئے۔

یہ بھی پڑھیئے:ووٹ قواعد و ضوابط کے مطابق ڈالنے کیلئے ضروری ہدایات جاری
 
 
انہوں نے کہا کہ بدھ کو 6 بجے تک پولنگ کا عمل جاری رہے گا جبکہ نتائج کا اعلان 7 بجے کے بعد کیا جاسکے گا ، لاہور میں بڑی تعداد میں ملنے والی شناختی کارڈز کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ’نادرا کے مطابق وہ شناختی کارڈز زائد المیعاد تھے اور جن کے تھے انہیں نئے شناختی کارڈز جاری ہوچکے ہیں، جبکہ معاملے کی مزید تحقیقات کی جارہی ہیں۔

واضح رہے کہ لاہورميں دو مقامات سے ہزاروں قومی شناختی کارڈز ملے تھے جس کے بعد کئی شکوک و شبہات نے جنم لیا تھا ، بابر یعقوب نے واضح کیا کہ 25 جولائی کو قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی 9 نشستوں پر انتخاب نہیں ہوگاجن میں راولپنڈی کا حلقہ این اے 60 بھی شامل ہے۔

یاد رہے کہ این اے 60 میں انتخاب ایفی ڈرین کیس میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی کو عمر قید کی سزا کے بعد ملتوی کیے گئے تھے، جو اس حلقے سے انتخابات میں حصہ لے رہے تھے۔

حلقے کے دوسرے امیدوار اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے انسداد منشیات عدالت کے فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا تاہم ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ نے ان کی درخواست مسترد کرتے ہوئے حلقے میں انتخابات ملتوی کرنے کے حوالے سے الیکشن کمیشن کا نوٹی فکیشن برقرار رکھا تھا۔

یہ بھی پڑھیئے:مریم نواز کی نااہلی پراین اے-127 کے انتخاب کے التوا کیلئے درخواست دائر
 
 
سپریم کورٹ کے فل بینچ نے بھی شیخ رشید کی الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف دائر درخواست کو مسترد کردیا تھا ، سیکریٹری الیکشن کمیشن بابر یعقوب نے کہا کہ ’امید ہے کہ کل ووٹرز کا ٹرن آؤٹ پہلے سے زیادہ ہوگا اور قوم جمہوریت کا جشن منائے گی، 85 ہزار 58 پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے ہیں جن میں سے 17 ہزار پولنگ اسٹیشنز کو حساس قرار دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی کے لیے 8 لاکھ کے لگ بھگ سیکیورٹی اہلکار تعینات ہوں گے جبکہ 8 لاکھ 19 ہزار کے لگ بھگ پولنگ عملہ ڈیوٹی دے گا۔

انہوں نے ریٹرننگ افسران اور ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’رزلٹ منیجمنٹ سسٹم قانون کے تحت لازمی ہے اور اسی کے تحت ہی وہ الیکشن کمیشن کو نتائج ارسال کریں گے۔