قصواء

Asif Anayat, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan

میری کتاب ”میں اور میری روح“ میں قصواء کے لئے تحریر

اے سرخی مائل رنگت کی حسین قصواء تری عظمت کو سلام 

اے بنی کشیر کی قصواء تیرے مقدر کو سلام

قصواء! جب سرکار کی خدمت میں پیش ہوئی تیری عمر کی اُن ساعتوں کو سلام 

جب ابو بکرؓ نے بیش قیمت میں تمہیں خریدا اور ان ساعتوں کو سلام 

ثور کے پہلو میں میرے سرکارؐ کی خدمت اقدس میں پیش ہونے کو سلام 

نیتِ ابو بکرؓ کہ تحفہ کیا جائے کو سلام

بحکم ربی، سرکارؐ کا تیری قیمت ادا کرنے کو سلام 

مسافرتِ ہجرت مدینہ میں ترے سوار اور تیری عظمت کو سلام 

دوران ہجرت ترے قدموں سے لپٹنے والی مٹی اور ریت کے مقدر کو سلام 

وحی کا بوجھ اٹھانے کا بھی تجھ کو شرف حاصل ہے 

پتھروں پہ پڑے تیرے پاکیزہ پا کے نشانوں کو سلام 

قباء میں تیرے پہلے پڑاؤ کو سلام

بنی نجار کی بچیوں نے ڈفلی کی دھن پر جو استقبال کیا، تیرے سوار کے بلند ذکر کی ان ساعتوں کو سلام 

مدینہ میں تیری باگ پکڑنے والے ہر خوش نصیب کے مقدر کو سلام 

جن راہوں سے تو لے کر والیئ دو جہاں کی سواری کو گزری، اُن راہوں کی مٹی کو سلام 

مدینہ میں موجود تھے سبھی مکی و مدنی صحابہؓ، تجھے مگر سونپے گئے اختیار کو سلام 

تو حکم ربَّی سے خواہش نبوی سے خراماں خراماں چلتی گئی، اس راز ونیاز کو سلام

ترے پڑاؤ کی منتظر، عشق و مودت میں ڈوبی ہوئی عشاق کی نظروں کو سلام 

مسکن و مسجد نبوی کی جگہ کے لیے تیرے انتخاب کو سلام 

جن کی زمین پر تیرا پڑاؤ ہوا سہل و سہیل کی لازوال قسمت کو سلام 

جہاں تیرے قدم پڑے وہ ریاض الجنہ ہوا تیرے نصیب کو سلام 

وہی مدینہ آج جہاں سرکار درود و سلام سنتے ہیں، جواب دیتے ہیں تیرے اس حسین انتخاب کو سلام 

تجھی پہ رحمت دوجہاں نے سفر مدینہ کیا،تو ہی حدیبیہ میں سرکار کی سواری ٹھہری 

تجھی پر تیرے سوار نے پہلا عمرہ اور طواف کیا، ترے لافانی مقدر کو سلام

تو ہی غزوات میں سرکار کی سواری تھی، تجھی پہ نزول وحی بھی ہوا

تو ہی فتح مکہ کی ساتھی تھی، تو نے ہی سرکار کو خیمہ میں اتارا 

بعد از غسل تجھی پہ سرکارؐ طواف کعبہ کیا

تو ہی عرفات کے خطبہ میں اور تو ہی غدیر میں سرکار کا منبر ٹھہری 

بعد از وصال نبی کریمؐ تو نے کچھ کھایا نہ پیا، شدت غم سے نڈھال ہوئی 

بعد از وصال رسولؐ پھر کوئی ہو نہ سکا سوار تجھ پر 

صحابہؓ سے تری اداسی نہ دیکھی جاتی،سیاہ پٹی تیری آنکھوں پہ باندھی گئی 

جدائی، صدمہ، غم، نقاہت اور وحشت نے تجھے یوں آ لیا کہ 

بعد از وصال نبیؐ، سال بھر بھی نہ دنیا میں رہ پائی تُو

کہتے ہیں ریاض الجنۃ کے ہی آس پاس کہیں، تو بھی آرام فرما ہے مگر اداس بہت ہے……

کہتے ہیں جنت میں سرکارؐ تجھ پر ہی سوار ہو کر داخل ہوں گے

قصواء ترے قبیلے بنی کشیر، اجداد، ترے مقدر

ترے رتبے، تیری لگام،ترے انتخاب کو سلام 

جب تک رہے گی دنیا قصواء تو زندہ رہے گی

 تیری خاکِ پا اور غبارِ راہ کو سلام 

ہوں گے خوش نصیب دنیا میں بہت مگر تیرے مقدر سا مقدر کہاں 

گر اک پل کو ہی سہی، ترا ماضی میں لوٹنا ممکن ہو، مجھے اپنی لگام پکڑا دینا

گر تجھے ہو انسانوں کی زباں میسر میرا نام اپنی زباں سے ادا کر دینا 

گر میرے آقاؐ سن لیں تیری زبانی نام میرا

میں سمجھوں گا ہو گیا انسانوں میں اعلیٰ مقام میرا 

قصوا تجھے تیری اجداد کا واسطہ میری آل اور اجداد کی سفارش کرنا 

گر تیرے ہوتے ہوئے سرکار کے میں خدمت گاروں میں ہوتا

تری خدمت پر میں مامور کیا گیا ہوتا

رشک کرتا ہوں اس مٹی پر جو ترے پاؤں کو چھو گئی 

مجھے یقین ہے، وقت رخصت، مری نظروں کے سامنے اک منظر ہو گا 

وہ منظر……کہ میرے آقا تجھ پر سوار ہوں گے

قصواء مجھ اشرف المخلوقات کا ترے مقدر کو سلام! 

قصواء تجھے واسطہ ہے تیرے سوارؐ کا میری، میرے اجداد کی میری اولادوں کی سفارش کرنا

میرے آقا واسطہ ہے آپ کو قصواء کا، اپنے غلاموں میں میرا، مری نسل کا شمار رکھنا 

قصواء ترے مقدر، ترے انتخاب، تری فہم، فضیلت کو سلام 

(اپنے بڑے بھائی پاء جی محمد اعظم بٹ شہیدؒ کے نام)