جے آئی ٹی کو سوالات باہر سے آ رہے تھے، وزیراعظم کے داماد کا الزام

جے آئی ٹی کو سوالات باہر سے آ رہے تھے، وزیراعظم کے داماد کا الزام

اسلام آباد: جے آئی ٹی کے سربر اہ واجد ضیا کی زیر صدارت پاناما لیکس پر مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا اجلاس آج بھی ہوا۔ وزیراعظم نواز شریف کے داماد رکن قومی اسمبلی کیپٹن ریٹائرڈ صفدر پاناما لیکس سے متعلق قائم کردہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہوئے اور ان سے تقریبا پانچ گھنٹے تک پوچھ گچھ کی گئی۔ واپسی پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا پاناما کیس 28 مئی کو پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے والے نواز شریف کیخلاف ہے اور عمران خان پاکستان کے خلاف سازشوں سے اپنے آپ کو دور کریں۔


کیپٹن ریٹائرڈ صفدر نے کہا ہم 73 کے مقدس آئین کی حفاظت کیلئے کھڑے ہیں لیکن آج سرے محل والوں کو کوئی نہیں پوچھ رہا ہے۔ یہ نواز شریف کا نہیں دو قومی نظریے کا احتساب ہو رہا ہے۔

انہوں الزام لگاتے ہوئے کہا جےآئی ٹی کو سوال باہر سے آ رہے تھے لیکن میں نے تفصیلی جواب دیے اور میرے ساتھ جے آئی ٹی کا رویہ اچھا تھا کیونکہ سارے لوگ مجھ سے جونیئر تھے۔ کیپٹن صفدر سے اظہار یکجہتی کے لیے مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کی بڑی تعداد بھی اکیڈمی کے باہر موجود تھی۔

کیپٹن ریٹائرڈ صفدر سے پہلے وزیراعظم نواز شریف، شہباز شریف، حسین نواز اور حسن نواز پاناما کیس کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہو چکے ہیں۔ یاد رہے کہ 20 اپریل کو سپریم کورٹ نے پاناما لیکس کیس کے تاریخی فیصلے میں وزیراعظم نواز شریف کے خلاف مزید تحقیقات کے لیے ایف آئی اے کے اعلیٰ افسر کی سربراہی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کا حکم دیا تھا۔

فیصلے میں کہا گیا تھا کہ ایف آئی اے کے سینئر ڈائریکٹر کی سربراہی میں 7 دن کے اندر جے آئی ٹی تشکیل دی جائے گی جو 2 ماہ میں اپنی تحقیقات مکمل کرے گی جبکہ جے آئی ٹی کو ہر 2 ہفتے بعد سپریم کورٹ کے بینچ کے سامنے اپنی رپورٹ پیش کرنے کی بھی ہدایت کی گئی تھی۔