بلوچستان حکومت کا سابق سینیٹر عثمان کاکڑ کی موت کی تحقیقات کرانے کا اعلان

بلوچستان حکومت کا سابق سینیٹر عثمان کاکڑ کی موت کی تحقیقات کرانے کا اعلان
سورس: فوٹو: بشکریہ ٹوئٹر

کوئٹہ: بلوچستان حکومت نے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنماءاور سابق سینیٹر عثمان خان کاکڑ کی موت کی تحقیقات کرانے کا اعلان کر دیا ہے۔ 

وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاءلانگو نے کہا کہ عثمان کاکڑ کی موت کے حوالے سے ان کے خاندان کے پاس کوئی ثبوت ہے تو لے آئیں، ہم تحقیقات کرانے کیلئے تیار ہیں، وہ جس ادارے یا تحقیقاتی کمیٹی سے کہیں گے ہم تحقیقات کرادیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے عثمان کاکڑ کی میڈیکل رپورٹس کل میڈیا کے سامنے پیش کی تھیں، ایک دو روز میں ان کی فاتحہ خوانی کیلئے مسلم باغ جائیں گے، وہاں ان کی فیملی سے کہوں گا جس طرح کی تحقیقات چاہتے ہیں ہم کرانے کیلئے تیار ہیں۔

واضح رہے کہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سینئر رہنما عثمان خان کاکڑ کراچی کے نجی ہسپتال میں زیر علاج تھے اور تین روز قبل ان کا انتقال ہوا جس کی تصدیق سیکرٹری اطلاعات پی کے میپ رضا محمد رضا نے کی جبکہ وہ اس سے بھی چند روز قبل کوئٹہ میں اپنے گھر میں گر کر شدید زخمی ہو گئے تھے۔ 

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سینیٹر سلیم مانڈی والا کا کہنا تھا کہ عثمان خان کاکڑ کے انتقال کی اطلاع سینیٹ کی کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں ملی، عثمان کاکڑ کے انتقال پر سینیٹ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔

عثمان کاکڑ کے اہل خانہ نے ان کی موت کو غیر طبعی قرار دیتے ہوئے پوسٹ مارٹم اور تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا تاہم جناح ہسپتال کراچی میں تیار ہونے والی ایم ایل رپورٹ میں ان کی موت کو طبعی قرار دیا گیا۔ 

ایم ایل رپورٹ میں بتایا گیا کہ عثمان کاکڑ کا انتقال برین ہیمریج سے ہوا اور ان کے جسم پر تشدد کا کوئی نشان نہیں جبکہ جسم کے مختلف حصوں پر سرجری یا کینولاز کے نشانات ہیں، رپورٹ کے مطابق کیمیکل اور پیتھالوجی رپورٹ آنے کے بعد موت کی وجہ کا حتمی تعین ہوسکے گا۔