تبدیلی کا بگل بج چکا

تبدیلی کا بگل بج چکا

ہماری معیشت، قومی معیشت مشکلات کا شکار ہے، یہ مشکلات ایسی نہیں ہیں کہ ان کا مستقبل قریب میں کوئی حل نکل آئے گا۔ ہماری معاشی مشکلات پائیدار بنیادوں پر استوار ہیں اور ہم نے ایک عرصہ، طویل عرصہ ان کی آبیاری کی ہے، انہیں پالا پوسا ہے، انہیں جوان کیا ہے، اب یہ مشکلات ایک گھنا اور طاقتور شجر سایہ دار بن چکی ہیں جس کے گھنے سائے میں ہماری معیشت بمشکل سانس لے رہی ہے، سرفہرست قرضے ہیں جن پر سود کی ادائیگی ہمارے سالانہ میزانیے کا سب سے بڑا بوجھ ہے۔ ہم ٹیکس کی مد میں جو کچھ حاصل کرتے ہیں اس کا نصف سے زائد عالمی قرضوں پر سود کی مد میں ادا کر دیا جاتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ ہم قرض کیوں لیتے ہیں؟ ہمارا اس حجم اور اہمیت کا دوسرا بڑا مسئلہ ڈالر کی حسب ضرورت دستیابی کا ہے۔ ہم برآمدات کے ذریعے 22/24 ارب ڈالر سالانہ کماتے ہیں لیکن درآمدات پر 60/70 ارب ڈالر خرچ کر دیتے ہیں۔ گویا ہمارے زرمبادلہ کے اخراجات، ہماری زرمبادلہ کی آمدنی سے کہیں زیادہ ہیں۔ اب اس تجارتی خسارے کو کیسے پورا کیا جائے؟ یہ ہمارا دوسرا بڑا اہم مسئلہ ہے۔ ہمارے بیرون ممالک بسنے والے پاکستانی، اپنی خون پسینے کی زرمبادلہ کی کمائی یہاں بھیجتے ہیں لیکن وہ اتنی نہیں ہوتی کہ ہمارے مسائل حل ہو جائیں۔ اس لئے ہمیں عالمی اداروں سے، دوست ممالک سے قرضے کی بھیک مانگنا پڑتی ہے ہم روزاول سے ہی، یعنی مملکت کے قیام کے وقت سے ہی امریکہ برطانیہ اور اقوام مغرب کے اتحادی بنے ہوئے ہیں، امریکہ و ہمنوا اقوام سرمایہ دارانہ نظام معیشت پر چلتی ہیں ہم نے بھی وہی راستہ اختیار کیا ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ اقوام مغرب اسی نظام کے تحت خوشحال زندگیاں گزار رہی ہیں۔ وہاں اشیاء صرف و ضروریہ کی بھی فراوانی ہے اور اشیاء تعیش بھی بآسانی اور وافر مقدار/تعداد میں دستیاب ہو جاتی ہیں۔ پھر عوام ان اشیاء اور سہولیات کو حاصل کرنے کی استطاعت بھی رکھتے ہیں۔ حکومتیں نہ صرف اشیاء و خدمات کی رسدکو یقینی بنانے کے اقدامات اٹھاتی رہتی ہیں بلکہ وہ اس بات کو بھی یقینی بناتی ہیں کہ عوام کی قوت خرید بھی تگڑی رہے کووڈ کے دوران جب معاشی و اقتصادی سرگرمیاں ماند پڑ چکی تھیں۔ کاروبار حیات جموں کا شکار تھا اس وقت بھی عامتہ الناس کو اشیاء و خدمات کی دستیابی یقینی بنائی گئی اور اس بات کو بھی یقینی بنایا گیا کہ وہ بغیر کام کئے بھی مطلوبہ اشیاء و خدمات حاصل کر سکیں۔ یہی ہے اقوام مغرب کا معاشی نظام۔ 

بدقسمتی سے ہم نے اقوام مغرب کا دامن تو تھام لیا لیکن ہم ان کے نظام ہائے معیشت کے فیوض و برکات سے فائدہ نہیں اٹھا سکے۔ ہم نے نظم حیات کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے کی منصوبہ سازی ضرور کی لیکن اسے بھی نافذالعمل نہیں کر سکے۔ ہم مخلوط قسم کے گلے سڑے نظام کے تحت زندگیاں گزار رہے ہیں جو نہ تو اسلامی ہے اور نہ ہی مغربی سرمایہ دارانہ نظام۔ اس لئے ہمیں نہ تو اسلامی طرز حیات کے فائدے ملے ہیں اور نہ ہی سرمایہ دارانہ نظام کی اچھائیاں۔ ہماری معیشت قرضوں کے بوجھ تلے جاں بلب ہو چکی ہے۔ ہم ایک 

ایک ڈالر کے لئے ترس رہے ہیں قرض دینے والے ادارے، جن میں انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ نمایاں ہے، ہمیں بلیک میل کرتے ہیں۔ ہمیں آئی ایم ایف ایسی شرائط پیش کرتا ہے، جن پر عمل درآمد کے نتیجے میں عوام کی زندگیاں اجیرن ہو جاتی ہیں۔ سال 2022-23 کا بجٹ ایسی ہی پالیسیوں کا شاخسانہ ہے۔ 9500 ارب روپے کا بجٹ اور 7000 ارب روپے سے زائد کی آمدنی۔ 2 ہزار ارب روپے سے زائد خسارہ، ٹیکسوں کی بھرمار، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں لامحدود اور ناقابل برداشت اضافہ، بجلی، گیس اور ٹرانسپورٹ لاگت میں بے تحاشا اضافہ، ناقابل برداشت مہنگائی اور اس پر بے یقینی کے دبیز بادلوں میں گھری ہوئی سیاست۔ ہمارا حال یعنی دورحاضر شدید مشکلات میں گھرا ہوا ہے۔ عمران خان حکومت سے نکلنے کے بعد حقیقتاً خطرناک ہو چکے ہیں اور وہ ہر شے کو نذرآتش کرنے پر تلے ہوئے لگ رہے ہیں ۔ وہ ’’میں نہیں تو کوئی نہیں‘‘ کی عملی تفسیر بنے ہوئے ہیں، سیاست میں بدزبانی، بدکلامی اور تشدد کے عناصر نمایاں ہو چکے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ اگلے عام انتخابات ’’خونی‘‘ ہوں گے یہی وجہ ہے کہ 20 نشستوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات کے لئے الیکشن کمیشن نے فوج سے مدد طلب کر لی ہے۔

بجلی کا بحران سر چڑھ کر بول نہیں رہا ہے بلکہ چیخ و پکار کر رہا ہے۔ 5/6 میگاواٹ کا شارٹ فال ہے جس کے باعث لوڈشیڈنگ کے عفریت نے ہماری قومی نفسیات کا ستیاناس کر دیا ہے۔ توانائی یعنی بجلی کی اولین ضرورت صنعت و حرفت کے ساتھ ساتھ گھریلو استعمال کے لئے ہونا چاہئے۔ ہمارے کاروباری حضرات 2 بجے اپنا کاروبار شروع کرتے ہیں اور گیارہ بارہ بجے رات تک جاری رکھتے ہیں۔ انہیں اپنے کاروبار کو پرکشش بنانے کے لئے بجلی کے قمقمے اور دیگر آرائشی آلات کا استعمال کرنا پڑتا ہے وہ رات کو دن میں تبدیل کرنے کے لئے بجلی کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں جو بجلی کی رسد کے حوالے سے جاری صورت حال میں کسی طور بھی درست نہیں ہے۔ حکومت نے کاروباری اوقات کو 9 بجے تک محدود کرنے کا جو فرمان جاری کیا ہے کئی تاجر تنظیموں نے اس کا انکار کر دیا ہے۔ وہ اس کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ وگرنہ اگر کاروباری اوقات کار کو سورج کی روشنی کے ساتھ منسلک کر دیا جائے تو بجلی کے شارٹ فال میں 50 فیصد تک کمی یقینی ہے لیکن ہمارے ہاں قومی شعور اس حد تک ترقی یافتہ نہیں ہوا ہے کہ ہم اجتماعیت کی فلاح و بہبود کے لئے ذاتی پسند و ناپسند کو قربان کر سکیں۔

ڈالر کا بحران ایک دوسرا اہم مسئلہ ہے ہمیں اپنی درآمدی ضروریات پورا کرنے کے لئے جس قدر ڈالر درکار ہوتے ہیں وہ دستیاب نہیں ہیں اس لئے ہمیں قرض خواہوں، عالمی ساہوکاروں کی منت سماجت کرنا پڑتی ہے۔ ہماری ضروریات جوں جوں بڑھتی چلی جا رہی ہیں، ہماری لین دین اور ساہوکاروں کے ساتھ بارگین کرنے کی قوت اسی قدر کمزور ہوتی چلی جا رہی ہے۔ اب تو ایسے لگ رہا ہے کہ ’’قوت‘‘ بالکل ہی سلب ہو چکی ہے ہمیں عالمی ساہوکار جو کچھ کہیں گے ہمیں ویسا ہی کچھ کرنا پڑے گا وگرنہ ہمارا حال بھی سری لنکا کی طرح ہو سکتا ہے۔ آئی ایم ایف دبا کر اپنی شرائط ہم پر نافذالعمل کر رہا ہے۔ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے اپنی تمام شرائط من و عن ہم سے منوا لی ہیں امریکہ بطور حلیف ہم سے ہمیشہ ’’ڈومور‘‘ کا تقاضا کرتا رہتا ہے اور ہم فدوی کی طرح اس کے مطالبات پر ’’آمنا و صدقنا‘‘ کہتے چلے آ رہے ہیں۔ افغان مجاہدین کی اشتراکیوں کے خلاف جدوجہد ہو یا طالبان کی امریکی اتحادیوں کے خلاف جنگ ہم نے ہمیشہ امریکہ کا اتحادی بننا پسند کیا بلکہ شاید ہم مجبور محض تھے۔ ہم نے اپنے معاملات درست کرنے کی کبھی کوشش نہیں کی۔ ہم اگر اپنی درآمدات کی فہرست کا مطالعہ کریں تو حیرانگی ہوتی ہے ہم اربوں ڈالر ایسی اشیاء کی درآمد پر خرچ کرتے پائے گئے ہیں جن کی ہمیں ہرگز ضرورت نہیں ہے۔ کھانے کا تیل، اشیاء خورونوش، صنعتی آلات اور دفاعی سازوسامان کی درآمد پر زرمبادلہ خرچ کرنا تو سمجھ میں آتا ہے لیکن موبائل فونز کی درآمد پر 2 ارب ڈالر، گاڑیوں کی درآمدات پر 3 ارب ڈالر اور ایسے ہی دیگر زرمبادلہ کے اخراجات کسی طور بھی جائز نہیں ہیں۔ ہم مہنگے موبائلز اور امپورٹڈ گاڑیوں کی درآمد کے بغیر ہی اچھی زندگی گزار سکتے ہیں لیکن ہم تبدیل ہونے کے لئے تیار نہیں ہیں جبکہ ایسا وقت آ چکا ہے کہ ہم تبدیلی اختیار کئے بغیر زندہ نہیں رہ سکیں گے۔ تبدیلی آ چکی ہے ہمیں اسے من و عن قبول کرنا ہو گا۔

مصنف کے بارے میں