ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کیلئے آئی ایم ایف  کے پاس جانا ضروری تھا : مفتاح اسماعیل

 ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کیلئے آئی ایم ایف  کے پاس جانا ضروری تھا : مفتاح اسماعیل

اسلام آباد: عمران خان  حکومت نے چار سال میں قرضوں میں بے پناہ اضافہ کیا ، ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کیلئے آئی ایم ایف  کے پاس جانا ضروری تھا ۔

قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار ِ خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ  رواں مالی سال 5 ہزار 300 ارب روپے کا خسارہ ہوا اور پونے 4 سال میں 71 سال کے برابر قرض لیا گیا۔ رواں مالی سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 17 ارب ڈالر تک ہو گا اور بجلی بل کے ذریعے دکانوں سے فکس ٹیکس لیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ پچھلے 10،،20برس  کے مقابلے میں یہ بجٹ کسان دوست ہے، کسانوں کو خود کفیل کریں گے ۔

مفتاح اسماعیل نے کہا کہ میں اس سال 20کروڑ سے زائد کا ٹیکس دوں گا ۔ملک کے تیرہ بڑے شعبوں پر ایک سال کے لئے دس فیصد سپرٹیکس لگادیا گیا ہے،  وزیر اعظم کے بیٹوں کی شوگر ملز بھی اضافی ٹیکس دیں گی امرا پر سپر ٹیکس ایک مرتبہ اس لئے لگانا پڑا ہے کیونکہ اگر عمران خان کی ملکی معیشت کو پہنچائی گئی تباہی کے نتیجے میں ملک دیوالیہ ہوتا تو یہ امرا بھی دیوالیہ ہوجاتے، عمران خان سپر ٹیکس کے دائرے میں نہیں آئیں گے کیونکہ ان کی آمدن پندرہ کروڑ روپے سے کم ہے۔  وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل کہتے ہیں ملک میں تیس ہزار سونے کی دکانوں میں سے صرف بائیس رجسٹرڈ ہیں تین سو فٹ والی سونے کی دکانوں پر چالیس ہزار فکسٹڈ ٹیکس لگارہے ہیں ۔

مصنف کے بارے میں