پاک، بھارت کرکٹ سیریز کی امیدیں بھی روشن، پاکستانیوں کیلئے خوشخبری آ گئی

پاک، بھارت کرکٹ سیریز کی امیدیں بھی روشن، پاکستانیوں کیلئے خوشخبری آ گئی
سورس:   فوٹو: بشکریہ ٹوئٹر

لاہور: پاکستان اور بھارت کے درمیان امن کی کوششوں کے ساتھ دونوں ممالک میں کرکٹ سیریز کی بحالی کی بھی امید روشن ہو گئی ہے اور مختصر سیریز کے اشارے ملنے لگے ہیں تاہم پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین احسان مانی نے کہا ہے کہ باہمی سیریز کیلئے کسی سے کوئی رابطہ نہیں ہوا۔ 

تفصیلات کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان امن کی کوششوں کے ساتھ دونوں ممالک میں رواں سال ٹی 20 سیریز ہوسکتی ہے اور اس حوالے سے کرکٹ ڈپلومیسی پر پی سی بی کے ایک افسر کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے کرکٹ بحالی پر براہ راست کسی نے بات نہیں کی البتہ اشارے ضرور مل رہے ہیں اور کہا گیا ہے کہ ’تیاری رکھیں‘۔

دوسری جانب نجی خبر رساں ادارے کی جانب سے رابطہ کئے جانے پر پی سی بی کے چیئرمین احسان مانی نے کہا کہ پاک، بھارت کرکٹ سیریز کیلئے کسی نے کوئی رابطہ نہیں کیا اور نہ ہی بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا (بی سی سی آئی) کیساتھ اس بارے میں بات چیت میں شریک ہوں۔ 

واضح رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان 13-2012ءمیں آخری دو طرفہ سیریز بھارت میں کھیلی گئی تھی جس کے بعد دونوں ٹیمیں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) اور ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کے زیر اہتمام عالمی ایونٹس میں ہی مدمقابل نظر آئیں جبکہ رواں سال بھارت میں ٹی 20 ورلڈکپ بھی شیڈول ہے جو اکتوبر میں کھیلا جائے گا اور اس میں شرکت کیلئے پاکستانی ٹیم بھارت جائے گی۔

اس تناظر میں بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے آئی سی سی کو خط لکھ کر یقین دہانی کروادی ہے کہ اکتوبر نومبر میں پاکستان سے آنے والے، کرکٹ مداح، میڈیا پرسنلز، ٹیم اور اس سے جڑی مینجمنٹ کو ہر طرح کی سہولتوں کے ساتھ ویزا جاری کیا جائے گا۔ رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا کہ پی سی بی کے تحفظات پر 31 مارچ اور یکم اپریل کو آئی سی سی ایگزیکٹو بورڈ کی میٹنگ میں بھی بات کی جائے گی۔

دوسری جانب پی سی بی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان ٹیم رواں سال بہت مصروف ہے لیکن پاک، بھارت حکومتوں کے درمیان کرکٹ سیریز کھیلنے پر بریک تھرو ہوتا ہے تو تین ٹی 20میچز کیلئے چھ دن کی ونڈو نکالی جاسکتی ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان نے آخری سیریز 13-2012ءمیں بھارت میں جاکر کھیلی تھی اب اگر کرکٹ بحالی کی یہ کوششیں کامیاب رہیں تو ممکن ہے کہ سیریز پاکستان میں کھیلی جائے گی۔