دہکتے کوئلے کے ساتھ پیش کی جانیوالی کافی

دہکتے کوئلے کے ساتھ پیش کی جانیوالی کافی

جکارتہ: دنیا بھر میں مشروبات، چائے اور کافی کو مختلف انداز میں گاہکوں کو پیش کئے جانے کا رواج عام نظر آتا ہے لیکن انڈونیشیا کے شہر یوگیاکارتا میں ایک کافی شاپ کے مالک نے انوکھا انداز نکالا ہے۔ کافی کو دہکتے ہوئے کوئلے کے ساتھ گاہکوں کو پیش کیا جاتا ہے جس کو Kopi Joss کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔


اسٹال کے مالک ایلیکس نے بتایا کافی کے اس انداز کو 1960 میں ایک کافی اسٹال کے مالک مسٹر مین نے اس وقت متعارف کروایا جب وہ عام طریقے سے کافی بنا رہا تھا اور مسٹر مین کی نظر دہکتے کوئلے پر پڑی تو اس کے دماغ میں ایک خیال آیا کہ اس دہکتے کوئلے کو کافی بنانے میں استعمال کیا جائے شاید اس کے معدے کی تکلیف ختم ہو جائے تاہم مسٹر مین نے کافی کا پانی گرم کرنے کے لئے دہکتے کوئلے کا استعمال کرنا شروع کر دیا .

اس طریقہ کار سے بنائی جانے والی کافی کے استعمال سے مسٹر مین کے معدے کی تکلیف میں کمی آنا شروع ہو گئی جس کے بعد اس نے یہ کافی مختلف گاہکوں کو بھی فروخت کرنا شروع کر دی۔ آج کل یوگیاکارتا میں آنے والے سیاح Kopi Joss میں دلچسپی لیتے ہیں تاہم ایلیکس نے بتایا اب اس کی فروخت میں کمی ہو گئی ہے جب سے اس کے حوالے سے یہ افواہیں پھیلائیں گئی کہ Kopi Joss کی وجہ سے صحت کے مخلتف مسائل جنم لے سکتے ہیں. 

ایلیکس کا دعوی ہے کہ یہ کافی پیٹ کے اپھارے، متلی، سینے کی جلن یا اسہال کو ختم کرنے کیلئے معاون ہے جبکہ Kopi Joss کے گلاس کی قیمت 4000 روپیہ ہے۔

مقامی طلبا کے مطابق ایلیکس کی کافی میں عام کافی کی نسبت کیفین کی مقدار کم ہوتی ہے کیونکہ اس میں استعمال ہونا والا کوئلہ کیفین کی مقدار کو کافی حد تک جذب کر لیتا ہے۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں