ڈونلڈ ٹرمپ کی اسرائیل میں شراب نوشی کی کہانی کی حقیقت

ڈونلڈ ٹرمپ کی اسرائیل میں شراب نوشی کی کہانی کی حقیقت

تل ایب: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے دورہ اسرائیل کے دوران اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو سے ملاقات میں نشے کی حالت میں دکھائی دیئے اور بہت سے لوگوں نے یہ گمان کرلیا کہ انہوں نے شراب پی رکھی تھی، تاہم حقیقت اس کے برعکس ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق مائیکرو بلاگنگ ویب سائیٹ ٹوئٹر پر ایک فوٹیج پوسٹ کی گئی جس میں ٹرمپ کو نشے کی حالت میں دکھانے کے ساتھ ساتھ یہ دعوی کیا گیا کہ انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاھو سے ملاقات کے وقت شراب پی رکھی تھی۔


مگر ان کے چہرے کے تاثرات میں تبدیلی شراب پینے سے نہیں بلکہ روس کے ساتھ مذاکرات میں اسرائیل سےمتعلق پوچھے گئے ایک سوال پر برہمی کا نتیجہ تھی۔ صدر ٹرمپ اس سوال پر بہت زیادہ سیخ پا تھے اور لگ رہا تھا کہ انہوں نے شراب پی رکھی ہے۔سوشل میڈیا پر صدر ٹرمپ کے الکحل استعمال کرنے کی مبینہ ویڈیو کے بعد خود امریکی صدر کو اس کی وضاحت کرنا پڑی کہ انہوں نے شراب نہیں پی رکھی تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ 35 سال قبل شراب چھوڑنے کی وجہ ان کے بڑے بھائی فریڈی کی شراب نوشی کے نتیجے میں ہونے والی موت بنی۔صدارتی انتخابات جیتنے سے قبل فاکس نیوز کو انٹرویو دیتےہوئے کمرے کے دیوار پر لگے اپنے بھائی کے فوٹو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ میرا بھائی فریڈی 42 سال کی عمر میں شراب پینے سے چل بسا تھا۔

جب مجھے یہ معلوم ہوا کہ بھائی کی موت شراب نوشی سے ہوئی تو میں نے اسی روز شراب کا شوق ترک کردیا تھا۔ اس کے بعد آج تک میں نے شراب کا ایک قطرہ بھی نہیں پیا۔نیوز ویک کو دیئے گئے ایک دوسرے انٹرویو میں بھی ٹرمپ نے کہا تھا کہ ان کے بڑے بھائی فریڈی نے انہیں نصیحت کی تھی کہ ٹرمپ کبھی شراب مت پینا۔ وہ بار بار یہی کہتے۔ مگر دوسری طرف خود فریڈی نے اتنی کثرت سے شراب نوشی کی جو ان کے لیے جان لیوا ثابت ہوئی۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں