بجلی کے ذریعے مریض کو ّّ " کوما " سے باہر نکالنے کا کامیاب تجربہ

بیلجیئم: جب بھی کوئی مریض کوما میں جاتا ہے تو وہ دماغی طور پر مردو ہو جا تا ہے۔ اس بیماری میں جسم کے باقی حصے تو کام کرتے ہیں مگر دماغ خاموش ہو جاتا ہے۔ ایسے مریضوں کیلئے ڈاکٹروں نے ایک ایسا شاندار تجربہ کیا ہے جس کے ذریعے کوما میں جانے والے مریضوں کو ہوش میں لایا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹروں نے دماغی طور مردہ 2 مریضوں کے دماغ کو برقی سرگرمیوں سے تحریک دے کر انہیں طویل بے ہوشی ”کوما“ سے باہر نکالنے کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔

 بجلی کے ذریعے مریض کو ّّ

بیلجیئم: جب بھی کوئی مریض کوما میں جاتا ہے تو وہ دماغی طور پر مردو ہو جا تا ہے۔ اس بیماری میں جسم کے باقی حصے تو کام کرتے ہیں مگر دماغ خاموش ہو جاتا ہے۔ ایسے مریضوں کیلئے ڈاکٹروں نے ایک ایسا شاندار تجربہ کیا ہے جس کے ذریعے کوما میں جانے والے مریضوں کو ہوش میں لایا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹروں نے دماغی طور مردہ 2 مریضوں کے دماغ کو برقی سرگرمیوں سے تحریک دے کر انہیں طویل بے ہوشی ”کوما“ سے باہر نکالنے کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔


یونیورسٹی آف لی بیلجیئم میں کئے گئے تجرباتی عمل کو ٹرانس کرینیئل ڈائریکٹ کرنٹ سیمولیشن (ٹی ڈی سی ایس) کا نام دیا گیا ہے جسے پہلی مرتبہ کوما کے مریضوں پر آزمایا گیا ہے۔اس سے قبل ماہرین نے مریضوں کے لیے ذاتی ٹی ڈی سی ایس ہیلمٹ بنانے کی کوشش کی تاکہ ضرورت پڑنے پر مریض کے دماغ کو برقی طور پر تحریک دی جا سکے اور ان کا دماغ بہتر طور پر کام کرنے لگے۔ تجرباتی طور پر دماغی ماہر ارورے سیبو نے ایک مریض کے سر کے اس مقام پر الیکٹروڈ (برقیرے) لگائے جسے پرفرنٹل کارٹیکس کہتے ہیں اور وہ شعور کنٹرول کرتا ہے۔

2 گھنٹے تک ہلکی بجلی دینے والے 2 مریضوں نے حیرت انگیز طور پر اپنے جسم کے بعض حصوں کو ہلانا شروع کردیا۔ اس کامیابی کے بعد سائنسدانوں کی ٹیم نے 15 ایسے مریض منتخب کیے جو کسی حادثے یا واقعے کے بعد دماغی طور پر متاثر تھے اور کم سے کم 3 ماہ تک بولنے سے قاصر تھے۔ان مریضوں کو مسلسل 5 روز تک 20 منٹ دماغ میں برقی رو دوڑائی گئی جب کہ دیگر کا فرضی علاج کیا گیا یعنی کم فریکوئنسی کی بجلی دماغ پر پہنچائی گئی۔ جن افراد کو مناسب بجلی دی گئی ان پر بہتر اثرات مرتب ہوئے جب کہ کم فریکوئنسی بجلی لینے والے مریضوں میں کوئی بہتری نہیں دیکھی گئی۔