جے آئی ٹی میں وزیراعظم کےخلاف کرمنل انویسٹی گیشن ہورہی ہے، عمران خان

جے آئی ٹی میں وزیراعظم کےخلاف کرمنل انویسٹی گیشن ہورہی ہے، عمران خان

کندھ کوٹ : چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کندھ کوٹ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہجے آئی ٹی میں وزیراعظم کےخلاف کرمنل انویسٹی گیشن ہورہی ہے .حسین نوازکہتےہیں جےآئی ٹی میں شامل 2نام صحیح نہیں ہیں.جےآئی ٹی پر اعتراض تو ہمیں کرناچاہیے . آج ملک میں کرپشن اور لوٹ مار ہو رہی ہے اور اسی لوٹ مار کیخلاف پاکستان تحریک انصاف میدان میں آئی ہے۔ ملک میں کرپشن کا بازار گرم ہے  ۔پاکستان کو چلانے کیلئے پیسہ ہی نہیں ہے ۔ ملک کو چلانے کیلئے باہر سے قرضے لینے پڑتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک میں پہلی بار وزیراعظم کیخلاف تحقیقات ہو رہی ہیں اور یہ صرف پاکستان تحریک انصاف اورپاکستان کے عوام کی وجہ سے ممکن ہوا ۔قوم کےسڑکوں پرنکلنےکی وجہ سےیہ تلاشی ہورہی ہے.


 انہوں نے مزید کہا کہ سندھ میں لوگوں پر پیسا خرچ نہیں ہوتا ۔سندھ ترقی کا کوئی منصوبہ نہیں لگایا گیا ۔ عوام مشکلات کا شکار ہے اور حکمران مزے میں زندگی گزار رہے ہیں ۔ پاکستان میں 60 فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں ۔ نوجوان نوکریوں کیلئے ترس رہے ہیں اور اگر نوکریاں ملکتی ہیں تو وہ صرف اور صرف سفارش پر لیکن کے پی میں این ٹی ایس کے ذریعے صاف اور شفاف بھرتیاں ہو رہی ہیں ۔لوگوں کی جان و مال کی حفاظت نہیں ،سندھ آگے نہیں بڑھ رہا  .سندھ کا سالانہ ترقیاتی فنڈ 230ارب روپےہے.سندھ میں مخالفین پر جھوٹی ایف آئی آر کاٹی ہوئی ہیں .پنجاب میں میرے خلاف ایف آئی آر کاٹی ہوئی ہیں.سندھ میں پولیس میں مداخلت کی وجہ سے آئی جی سندھ بھی پریشان ہیں جبکہ  کے پی کی پولیس میں سیاسی مداخلت نہیں.سندھ میں جنگل کا قانون ہے جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا قانون ہے ۔سندھ میں صاف پینے کا پانی تک نہیں ملتا.سندھ میں قانون ہے نہ ترقی ،اسکول چل رہے ہیں نہ اسپتال ہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ ہمارا دور آئے کگا تو سندھ میں کونے کونے میں جاؤں گا۔پاناما سے فارغ ہوگیا ہوں ،رمضان کے بعد سندھ آؤں گا.6 دفعہ باریاں لے کر کچھ نہ کر سکے ساتویں باری لے کر آپ کیلیے کیا کریں گے.تبدیلی کی ضرورت سندھ کی چوائس نہیں مجبوری ہے.اب نئے پاکستان کا وقت ہے ،ماضی سے سبق سیکھ لیا.ہمیں سندھ میں نیادور نظرآرہا ہے.

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں

ندیم حسن کلیر< Editor