جنوبی سمندر میں نصب دفاعی تنصیبات ضروری اور قانونی ہیں،مبالغہ آرائی کی ضرورت نہیں، چین

 جنوبی سمندر میں نصب دفاعی تنصیبات ضروری اور قانونی ہیں،مبالغہ آرائی کی ضرورت نہیں، چین
تائیوان کے مسئلے پر ایک چین کی پالیسی کے حوالے سے امریکی موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔،فوٹو رائیٹرز

واشنگٹن : چینی وزیرخارجہ وانگ ای نے کہا ہے کہ ساو تھ چائنہ سی میں نصب دفاعی تنصیبات ضروری اور قانونی ہیں،جزیرے پر تعمیرات غیر عسکری مقاصد کیلئے ہیں جبکہ بعض ضروری دفاعی سہولیا ت ہیں،بین الاقوامی قوانین ہر خود مختار ریاست کو اپنے دفاع کا حق دیتے ہیں،معاملے پر مبالغہ آرائی کی ضرورت نہیں ہے جبکہ امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکہ چین کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کے فروغ کے لئے مسلسل کوشش کرنا چاہتا ہے، تائیوان کے مسئلے پر ایک چین کی پالیسی کے حوالے سے امریکی موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔


چائنہ ریڈیو انٹرنیشنل کے مطابق چین کے وزیر خارجہ وانگ ای نے ارجنٹائن کے دورے سے واپسی پر واشنگٹن میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو سے ملاقات کی۔ فریقین نے چین- امریکہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے حامل امور پر تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر وانگ ای نے کہا کہ موجودہ پیچیدہ بین الاقوامی صورتحال کے پیش نظر، چین اور امریکہ کے درمیان صحتمندانہ اور مستحکم تعلقات کی ترقی کو برقرار رکھنا بہت اہمیت رکھتا ہے۔ دونوں ملکوں کو مشترکہ طور پر کوشش کرنی چاہئیے۔ وانگ ای نے ملاقات میں بہتر تعلقات کے لیے چار نکات پیش کیے۔ پہلا دونوں ملکوں کے رہنماوں کی سٹرٹیجک ر ہنمائی کے کردار کو فروغ دیا جائے گا، تاکہ چین- امریکہ تعلقات کی سمت طے کی جاسکے۔

یہ بھی پڑھیں :- رقم بھارت منتقلی کا الزام،نواز شریف نے چیئرمین نیب کو 1 ارب روپے ہرجانہ کا قانونی نوٹس بھیج دیا

دوسرا مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کو مزیدمضبوط بنایا جانا چاہئیے۔ تیسرا دو طرفہ اختلافات اور معاملات کو مناسب طریقے سے حل کیا جانا چاہئیے تاکہ چین- امریکہ تعلقات میں رکاوٹ پیدا نہ ہو ۔ چوتھا علاقائی و عالمی امور میں باہمی تعاون کو توسیع دی جانی چاہئیے تاکہ چین- امریکہ تعلقات کو مزید فروغ دیا جاسکے۔ وانگ ای نے کہا چین کی جانب سے اپنے جزیرے ساو تھ چائنہ سی میں نصب دفاعی تنصیبات قانونی اور ضروری ہیں چین کی ساو تھ چائنہ سی میں اپنی حدود میں واقع جزیرے پر تعمیرات غیر عسکری مقاصد کیلئے ہیں جبکہ بعض ضروری دفاعی سہولیا ت ہیں۔چین کا یہ عمل بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہے اور بین الاقوامی قوانین ہر خود مختار ریاست کو اپنے دفاع کا حق دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :- مریم کے کٹہرے میں بیان دینے پر نواز شریف رنجیدہ ہوگئے

جناب وانگ ای نے مزید کہا کہ مذکورہ تنصیبات ہوائی اور گوام میں امریکی فوجی موجودگی کی طرح غیر عسکری نوعیت کی ہیں۔ چین کی مذکورہ تنصیبات حجم میں امریکہ سے بہت کم ہیں۔ وانگ ای نے کہا کہ اس معاملے پر مبالغہ آرائی کی ضرورت نہیں ہے۔ادھر مائیک پومپیو نے کہا کہ امریکہ اور چین دنیا میں دو بڑے ملک ہیں اور دنیا میں دو سب سے بڑی معیشتیں بھی ہیں۔ دونوں ملکوں کے تعلقات بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ امریکہ چین کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کے فروغ کے لئے مسلسل کوشش کرنا چاہتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مائیک پومپیو نے کہا کہ تائیوان کے مسئلے پر ایک چین کی پالیسی کے حوالے سے امریکی موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے ۔ علاوہ ازیں ، مائیک پومپیو نے کہا کہ امریکہ جزیرہ نما کوریا میں ایٹمی اسلحے کے خاتمے کے لئے چین کی کوششوں کو سراہتا ہے۔