فاٹا انضمام کا بل قومی اسمبلی سے منظور کرلیا گیا

فاٹا انضمام کا بل قومی اسمبلی سے منظور کرلیا گیا
بل کے مطابق آئندہ پانچ سال تک فاٹا میں قومی اسمبلی کی 12 اور سینیٹ میں 8 نشستیں برقرار رہیں گی...فائل فوٹو

اسلام آباد:فاٹا انضمام کا آئینی ترمیمی بل قومی اسمبلی سے منظور کرلیا گیا ہے۔


ذرائع کے مطابق وزیر قانون محمود بشیر ورک نے فاٹا انضمام کی اکتیسویں آئینی ترمیم کی تحریک پیش کی اوربل کی حمایت میں 229 ارکان اور مخالفت میں 11 ممبران نشستوں پر کھڑے ہوئے۔جے یو آئی (ف) اور پختونخوا میپ نے بل کی مخالفت کر دی جبکہ جے یو آئی ف ترمیم کے خلاف ایوان سے واک آؤٹ کر گئی۔

یہ بھی پڑھیں:عدالت کے سامنے معاملہ آیا تو میں نے بتادیا،حقائق تھے ،منظر عام پر آنا چاہیے تھے:نواز شریف

فاٹا اصلاحات بل کے تحت آئندہ پانچ سال تک فاٹا میں قومی اسمبلی کی 12 اور سینیٹ میں 8 نشستیں برقرار رہیں گی اور فاٹا کے لیے مختص صوبائی نشستوں پر انتخابات اگلے سال ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں:ڈان لیکس کی وجہ سے سول ملٹری تناؤمیں اضافہ ہوا:مریم نواز

بل کے مطابق صوبائی حکومت کی عملداری سے صدر اور گورنر کے خصوصی اختیارات ختم ہوجائیں گے اور ایف سی آر کا بھی مکمل خاتمہ ہو جائے گا۔این ایف سی ایوارڈ کے تحت فاٹا کو 24 ارب روپے کے ساتھ 100 ارب روپے اضافی ملیں گے اور 10 سال کے لیے ایک ہزار ارب روپے کا خصوصی فنڈ ملے گا جو کسی اور جگہ استعمال نہیں ہو سکے گا۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستانی قونصل جنرل کی عافیہ صدیقی سے ملاقات،موت کی افواہیں بے بنیاد قرار

ترمیمی بل میں سپریم کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ کا دائرہ کار فاٹا تک بڑھایا جائے گا جب کہ پاٹا اور فاٹا میں 5 سال کے لیے ٹیکس استثنیٰ دیا جائے گا۔قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیرصدارت جاری ہے،جس میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سمیت تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان بھی خصوصی طور پر شریک ہیں۔

   نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں