چوہدری نثار نے بہت سی باتیں کیں جو عام نہیں ہونی چاہئیں تھیں: وزیر اعظم

چوہدری نثار نے بہت سی باتیں کیں جو عام نہیں ہونی چاہئیں تھیں: وزیر اعظم
فوٹو بشکریہ سوشل میڈیا

اسلام آباد: وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بھارتی میڈیا کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی چین کے صدر سے ملاقات کے دوران جماعت الدعوة کے امیر حافظ سعید کے بارے میں کوئی گفتگو نہیں ہوئی۔


وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ فاٹا اصلاحات پر اتفاق رائے کےلئے نوازشریف نے بہت محنت کی الیکشن نزدیک ہیں شاید اس لیے کچھ ارکان اسمبلی نے فاٹا بل پر نہ حمایت کی اور نہ مخالفت کی ، فاٹا اصلاحات پر اتفاق رائے کے دوران مسائل پیدا ہوتے رہے ، فاٹا ارکان اسمبلی کی اکثریت گزشتہ روز تک بل کی حمایت کرتے رہے لیکن انہوں نے ووٹنگ میں نہیں حصہ نہیں لیا، فاٹا ارکان پارلیمنٹ سے فاٹا اصلاحات پر مشاورت کی گئی۔ 11 میں سے 9 فاٹا ارکان اسمبلی اصلاحات کے حق میں ہیں۔

چوہدری نثار پرانے ساتھی اور دوست ہیں ، جھگڑا نہیں اختلاف رائے ہو سکتا ہے ، میں اور چوہدری نثار پارٹی چھوڑ کر نہیں جا سکتے ، ہم تیس سال سے جماعت کے ساتھ ہیں ، چوہدری نثار نے بہت سی باتیں کیں جو پبلک میں نہیں ہونی چاہیئں تھیں ، میں چوہدری نثار کے اظہار رائے پر یقین رکھتا ہوں ۔انہوں نے کہا کہ ڈان اخبار(نجی اخبار) کے انٹرویو کو کسی شخص نے نہیں پڑھا، اس سے شکوک وشبہات پیدا ہوئے ۔ انہوں نے کہا کہ نوازشریف کے انٹرویو سے غلط مطلب نکالا گیا ، قومی سلامتی کمیٹی کی پریس ریلیز کے مطابق نوازشریف کے حوالے سے بیان مس رپورٹنگ پر مبنی ہے ، میڈیا میں آنے والی باتیں حقیقت پر مبنی نہیں ہیں ، پاکستان اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا ، ممبئی حملے میں پاکستان کی سرزمین کے استعمال ہونے کی نفی کی گئی۔

وزیراعظم نے کہا کہ نوازشریف کی ممبئی حملے والی باتیں بہت بڑے انٹرویو کا چھوٹا حصہ تھا ، اخبا والی باتیں ہر کوئی کو رہا ہے ۔انہوں نے نگران حکومت کے حوالے سے کہا کہ اگر نگران وزیراعظم پر میرے اور خورشید شاہ کے درمیان اگر فیصلہ نہ ہو سکا تو نام پر پارلیمانی کمیٹی کو بھیجے جائیں گے اور اس کے بعد اگر فیصلہ نہ ہوسکا تو الیکشن کمیشن کے پاس بات جائے گی۔

میری اور خورشید شاہ کے درمیان پیر کو ملاقات ہوگی ۔انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف عدالت کی اجازت سے علاج کے لئے باہر گئے ، عدالت جو کہے گی ہم اس پر عمل درآمد کے پابند ہوں گے ، ہم نے جنرل (ر) مشرف سے ان کے اقتدار میں این آر او نہیں کیا تو بعد میں کیا کرتے ، حکومت نے پرویز مشرف کو باہر جانے کی اجازت نہیں دی ، اصغر خان کیس کابینہ میں رکھا جائے گا اور وہاں اس پر ڈسکس کیا جائے گا ، اصغر خان کیس کو 30سال کا عرصہ گزر گیا ہے ، نہ شکایت کرنے والے زندہ ہیں اور نہ گواہ موجود ہیں ، ایک سچائی کمیشن بنا دیا جائے جس میں اس طرح کے معاملات حل کئے جائیں۔