بنگلہ دیش کا پاسپورٹ سے اسرائیل کے متعلق عبارت ہٹا نے کے بعد موقف بھی سامنے آگیا

ڈھاکہ : بنگلہ دیش نے اپنے پاسپورٹ سے اسرائیل کے متعلق عبارت ہٹا دی ہے۔

بنگلہ دیش کے پاسپورٹ پر اس سے پہلے لکھا ہوتا تھا کہ یہ اسرائیل کے علاوہ ساری دنیا کے لیے کار آمد ہے۔تاہم اب اس عبارت کو تبدیل کر کے یہ لکھا گیا ہے کہ ’یہ پاسپورٹ دنیا کے تمام ممالک کے لیے موزوں ہے۔‘گزشتہ ہفتے اسرائیلی وزارت خارجہ کے ایک اہلکار جیلاڈ کوہین کی جانب سے ایک ٹویٹ میں ایک خبر شیئر کی گئی تھی جس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ بنگلہ دیش نے کیونکہ اپنے پاسپورٹس پر عام طور شائع ہونے والی عبارت کو تبدیل کر دیا ہے اس لیے درحقیقت اس نے اسرائیل پر لگائی جانے والی اپنی سفری پابندی ہٹا دی ہے۔

دوسری جانب بنگلہ دیش کی وزارتِ خارجہ کی جانب جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ عبارت تبدیل کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس نے اسرائیل پر سے اپنی سفری پابندی ہٹا دی ہے۔

وزارت خارجہ نے ایک اعلامیہ جاری کیا جس میں کہا گیا کہ ’اس عبارت کو تبدیل کرنے کا مقصد ای پاسپورٹس کو بین الاقوامی معیار کے مطابق رکھنا ہے اور اسرائیل کے سفر پر پابندی اب بھی برقرار ہے۔‘

اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ ’مشرقِ وسطیٰ کے ساتھ بنگلہ دیش کی خارجہ پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں ہو گی اور نہ ہی بنگلہ دیشی حکومت نے اسرائیل کے معاملے پر اپنے مؤقف سے انحراف کیا ہے۔ بنگلہ دیش اپنی طویل المدتی پوزیشن پر قائم رہے گا۔‘

بنگلہ دیش اقوام متحدہ کے ان 18 رکن ممالک میں سے ہے جو اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتے اور یہ ان متعدد ممالک میں سے ہے جہاں کے شہریوں کے لیے اسرائیل جانے کی سفری پابندی عائد ہے۔