اب ’نیوٹرل‘ رہنے کی گنجائش نہیں، عمران خان کا خیبرپختونخواہ سے تاریخی جلوس کیساتھ اسلام آباد جانے کا اعلان 

اب ’نیوٹرل‘ رہنے کی گنجائش نہیں، عمران خان کا خیبرپختونخواہ سے تاریخی جلوس کیساتھ اسلام آباد جانے کا اعلان 

پشاور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کل خیبرپختونخواہ سے تاریخ کا سب سے بڑا جلوس لے کر اسلام آباد جانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب نیوٹرل رہنے کی کوئی گنجائش نہیں رہی اور قوم اداروں کی طرف دیکھ رہی ہے، یہ سب کیلئے فیصلہ کن وقت ہے اور عدلیہ اپنے فیصلوں سے جمہوریت کا تحفظ کرے اور اگر ایسا نہ ہوا تو اس کی ساکھ ختم ہو جائے گی۔ 

تفصیلات کے مطابق پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ موجودہ حکومت نے ڈیڑھ ماہ میں معیشت تباہ کر دی ہے اور خدشہ ہے کہ پاکستان سری لنکا کے راستے پر نہ چلا جائے، یہ میری نہیں بلکہ نوجوانوں کی جنگ ہے اور اگر یہ حکومت ا وپر رہ گئی تو قوم کا کوئی مستقبل نہیں، یہ عدلیہ کا امتحان ہے کہ ملکی جمہوریت کا دفاع کرے گی یا نہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ یہ سمجھتے ہیں کچھ گرفتاریاں کر کے ہمیں ڈرا دیں گے، گزشتہ رات جسٹس ناصرہ اقبال کے گھر پر چھاپہ مارا گیا اور حماد اظہر کے گھر پر دیوار پھلانگ کر داخل ہوئے جبکہ کراچی میں بھی پی ٹی آئی کے رہنماﺅں کو گرفتار کیا جا رہا ہے، عوام کے سمندر کو کوئی نہیں روک سکتا اور اگر کوئی ہمیں روکنا چاہتا ہے تو ہمیں روک کر دکھادے ۔ 

چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ملک میں جو سازش ہوئی لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ کون ملوث تھا، ان سے حکومت سنبھال نہیں رہی اور آئی ایم ایف کے پاس بھاگ رہے ہیں جبکہ امریکہ کو پیغام دے رہے ہیں کہ پیسے دیدو ورنہ عمران خان واپس آ جائے گا۔ مجرموں کی کابینہ نے غیر قانونی فیصلہ کیا ہے جبکہ ہمارے دور میں بلاول اور مولانا نے لانگ مارچ کئے مگر ہم نے روکنا تو دور کی بات انہیں سہولیات دیں، اب اداروں کا امتحان ہے کہ وہ جمہوریت کا تحفظ کریں ورنہ ان کی ساکھ ختم ہو جائے گی، اس کا مطلب ہو گا یہاں جمہوریت نہیں ہے۔ 

عمران خان نے کہا کہ پنجاب میں وزیراعلیٰ کی اکثریت نہیں کیونکہ یہ جن کے بل بوتے پر وزیراعلیٰ بنے وہ لوٹے ڈی سیٹ ہو چکے ہیں، تو پھر پنجاب کی انتظامیہ حمزہ شہباز کے احکامات کیسے مان رہی ہے؟ ملک میں قانون موجود ہے، انتظامیہ غلط قانون نہیں مان سکتی، ایک ایک کا نام نوٹ کر رہے ہیں اور اسلام آباد آئی جی کا خاص نوٹ کیا ہے، بیورو کریسی غلط آرڈرز مانے گی تو اس کے خلاف بھی ایکشن ہو گا۔ 

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مجھے اپنی جان کی پرواہ نہیں اور یہ ملک کیلئے جہاد ہے، حقیقی آزادی اور قربانی کیلئے سب شہریوں کو تیار رہنا چاہئے، عدلیہ اور نیوٹرلز سے ایک بار پھر پوچھتا ہو ں کہ جو آپ دیکھ رہے ہیں ایسا کون کرتا ہے ؟ کوئی بھی جمہوری حکومت ایسا رویہ نہیں کر سکتی بلکہ ایسا رویہ صرف مجرم حکومت ہی کر سکتی ہے، کل کے پی سے پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا جلوس لے کر نکلوں گا، قافلے ہمارے ساتھ جمع ہوں گے اور ہم اسلام آباد پہنچیں گے۔ 

ان کا مزید کہنا تھا کہ اب کسی کے پاس نیوٹرل رہنے کی گنجائش نہیں، بیچ میں ہونے کا مطلب مجرموں کی مدد کرنا ہے، ملک تباہی کی جانب گیا تو آپ بھی اتنے ہی ذمہ دار ہوں گے، قوم آپ کی طرف دیکھ رہی ہے، آپ پر بھی فیصلہ دیا جائے گا، نیوٹرلز، ججز میڈیا اور وکلاءسب کیلئے فیصلہ کن وقت ہے۔ موجودہ حکومت اور ڈکٹیٹروں میں کوئی فرق نہیں، فاشسٹ حکومت نے گزشتہ رات سے ہمارے خلاف کارروائیاں کی گئیں، ہم پرامن احتجاج کر رہے ہیں پھر یہ کیوں ہو رہا ہے۔ 

سابق وزیراعظم عمران خان نے فوری انتخابات کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ اس ساری صورتحال کا واحد جمہوری حل الیکشن ہیں۔ کل خیبرپختونخواہ سے جلوس لے کر اسلام آباد روانہ ہوں گا، یہ فیصلہ کن موڑ ہے، جو روکنا چاہے وہ روک کر دکھائے، عوامی سمندر کو کوئی روک نہیں سکتا، پولیس اور رینجرز بھی اسے نہیں روک سکتی۔ 

مصنف کے بارے میں