خورشید شاہ بھارت میں ہونے والی ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں پاکستان کی شرکت کے مخالف

خورشید شاہ بھارت میں ہونے والی ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں پاکستان کی شرکت کے مخالف

اسلام آباد: قومی اسمبلی اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے بھارت میں ہونے والی ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں پاکستان کی شرکت کی مخالفت کردی ہے۔ اپوزیشن لیڈر کا کہنا ہے کہ پاکستان کی کانفرنس میں شرکت کمزوری دکھانے کے مترادف ہوگی۔


قومی اسمبلی اظہار خیال کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا کہ ہارٹ آف ایشیا میں شرکت سے پہلے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جائے۔ کانفرنس بھارت کے علاوہ کسی اور ملک میں ہو تو پاکستان کو جانا چاہیے۔ بھارت جنگ اور پاکستان امن چاہتا ہے۔ کب تک خطے کے امن کے نام پر شہریوں کو قربان کیا جاتا رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ ن لیگ کے اراکین نے پارلیمنٹ کو کمزور کیا ہے۔ اگر وزیر اعظم اور وزرا پارلیمنٹ میں ہوں تو دشمن ڈرے گا کہ یہ متحد ہیں۔ پارلیمنٹ کی کمزوری کی وجہ سے کوئی دھرنا دیتا ہے اور کوئی الزام لگاتا ہے۔ جب مالک نہیں ہوگا تو کوئی بھی داخل ہو سکتا ہے۔

خورشید شاہ نے مزید کہا کہ 230 بار ایل او سی کی خلاف ورزی ہوئی درجنوں پاکستان شہری اور فوجی شہید ہو چکے ہیں ۔ انہوں نے  ڈپٹی سپیکر کو مخاطب کرتے کہا کہ آپ بتائیں،حکمران یہاں ہوں گے تو پارلیمنٹ مضبوط ہو گی یا نہیں ؟  آپ اراکین میں ہوں گےتو جواب دوں، میں نے کوئی غلط بات نہیں کی۔ آپ کرسی پر بیٹھے ہیں اس لیے آپ کو جواب نہیں دوں گا۔

اس پر  ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ اس فورم سے ایسا پیغام نہیں دینا چا ہیے۔ حکومت کی بھارت کی قیادت سے اچھے تعلقات کی بات درست نہیں۔ جس پر خورشید شاہ نے کہا کہ میں کسی کی حب الوطنی پر سوال نہیں اٹھاتا۔ میں اراکین  کے طرز عمل کی بات کرتا ہوں۔ میاں نواز شریف مجھ سے 10 گنا  زیادہ حب الوطن ہوں گے۔ وفاقی وزیر عبدالقادر بلوچ کا کہنا تھا کہ شاہ جی ٹھیک کہہ رہے ہیں پارلیمنٹ کو مضبوط ہونا چاہیے۔