بھارت،انتہا پسندوں نے نومسلم نوجوان کو بے دردی سے قتل کردیا

بھارت،انتہا پسندوں نے نومسلم نوجوان کو بے دردی سے قتل کردیا

نئی دہلی :بھارت میں انتہا پسندوں نے نومسلم نوجوان کو بے دردی سے قتل کردیا۔کلمہ توحید پڑھنے والے کو ہندو انتہا پسندوں نے نشانے پر رکھ لیا۔بھارتی پولیس نومسلم نوجوان کے قاتلوں کو پکڑنے میں تاحال ناکام ہے۔

کیرالہ سے تعلق رکھنے والے بھارتی نوجوان انیل کمار نے سعودی عرب میں قیام کے دوران مسلمانوں کی تعلیمات سے متاثر ہو کر اسلام قبول کیا اور اپنا نام فیصل رکھا۔بھارت واپس جاتے ہی نو مسلم نوجوان کو انتہا پسندوں نے قتل کی دھمکیاں دینا شروع کردیں۔ فیصل کاکہنا تھا کہ وحدہ لاشریک پر ایمان لانے کے بعد دل میں کسی چیز کا خوف نہیں، اگر ہندو اسے قتل کرنا چاہتے ہیں تو کر گزریں۔

بھارتی پولیس روایتی طور پر ابھی تک ملزمان کا تعین کرنے میں ناکام ہے اور تاحال کسی کی گرفتاری بھی عمل میں نہیں لائی گئی۔نومسلم نوجوان کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ انتہا پسند فیصل کے تبلیغ اسلام سے ناخوش تھے۔

فیصل نے اس سلسلے میں مقامی عالم دین سے ملاقات کی تھی جنہوں نے اسے اپنی کمیونٹی سے مدد حاصل کرنے کا مشورہ دیا۔اس نے عالم دین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ واحد لاشریک پر ایمان لانے کے بعد اس کو کسی چیز کا خوف ہے اور ہی ڈر۔

فیصل کے بعض رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ ہندو بلوائیوں نے اسے صرف اس لئے قتل نہیں کیا کہ وہ مسلمان ہے، بلکہ فیصل دوسرے لوگوں میں کلمہ توحید پہنچانے کیلئے تبلیغ کا فریضہ سر انجام دے رہا تھا جو ہندوں کو کسی صورت قبول نہیں تھا۔ فیصل کی بیوی اور بچے اس کے ساتھ ہی اسلام قبول کر چکے تھے۔ اس کی خواہش تھی کہ اس کی والدہ بھی دائرہ اسلام میں داخل ہو جائے۔