ہتھیلی ،تیری چاہ، بدگمان : پاکستانی ڈراموں پر ایک نظر

ہتھیلی ،تیری چاہ، بدگمان : پاکستانی ڈراموں پر ایک نظر

لاہور: ٹی وی ڈراموںکو معاشرے کا عکاس تو کہا جاتا ہے لیکن اس وقت اکثر و بیشتر ڈرامے قانون قدرت کی دھجیاں بکھیر رہے ہیں۔ اس کی مثال سوپ سیریل ”ہتھیلی“ ہے جس میں مصنف اور ڈائریکٹر ناظرین کے جذبات سے کھیل رہے ہیں۔ اگر ہمارے ہاں ڈراموں کے سکرپٹ جانچنے کےلئے سکروٹنی کمیٹی ہوتی تو شاید ہتھیلی جیسے ڈراموں سے نجات مل سکتی تھی لیکن ایک عورت کو طلاق ہونا، اس کا اسی گھر میں رہنا، پھر حلالہ کیلئے دیور سے شادی کرنا اور بعد میں لڑائی جھگڑے اور بڑے بھائی کا جعلی طلاق نامہ بنانا اور عدت کے دن پورے کئے بغیر دوبارہ نکاح کےلئے تیار ہونا، کیا یہ ہمارے لیے لمحہ فکریہ نہیں۔ آخر نئی نسل کو کس قسم کا پیغام دیا جا رہا ہے کیا یہ مذہب سے دوری کا سبق نہیں دیا جا رہا، موجودہ دور میں نئی نسل کے لیے معیاری ڈرامے تیاری کرنے چاہیئں، ان میں خاندانی عظمت، پیار و محبت، رواداری کا پرچار ہو، ایسے سبق آموز ڈرامے نشر کرنے چاہیے جو مذہبی اعتبار سے بھی یکتا ہوں۔ ڈرامہ سیریل ”تیری چاہ میں“ نے اب نیا موڑ لیا ہے، غالباً اب یہ سیریل اختتام کی جانب گامزن ہے۔ شاید آئندہ قسط آخری ہو۔ ماریہ واسطی، شکیل، فرحان سعید اور ڈرامے میں نئی انٹری ایک اچھا اضافہ ہے۔ عابد علی اس وقت کئی ڈراموں میں ایک امیر شخص کی اداکاری کر رہے ہیں لیکن ڈرامہ سیریل ”بدگمان“ میں ان کی اداکاری کو زیادہ سراہا جا رہا ہے۔ پانچ روز آن ایئر اس ڈرامے کا موضوع اچھوتا نہیں، کہانی کو خوبی سے ڈھالا گیا ہے۔ اس میں کئی جذباتی مناظر عمدہ ریکارڈ کئے گئے ہیں۔ مجموعی طور پر ڈرامہ عابد علی، جویریہ عباسی اور دیگر فنکاروں کی اچھی اداکاری کی وجہ سے توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔


شہباز سعیدآسی< Editor

شہبازسعیدآسی نیوٹی وی کےویب اور بلاگ ایڈیٹر ہیں،روزنامہ نئی بات میں کالم بھی لکھتے ہیں