وزیر اعظم سے پی ایس ایل کی نجکاری روکنے کی درخواست

وزیر اعظم سے پی ایس ایل کی نجکاری روکنے کی درخواست

اسلام آباد: متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رکن قومی اسمبلی اقبال محمد علی خان نے پاکستان سپر لیگ(پی ایس ایل)کی پرائیویٹائزیشن روکنے کیلئے وزیر اعظم پاکستان کو خط لکھ دیا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کی گورننگ باڈی کے اراکین نے آٹھ نومبر کو منعقدہ اجلاس میں پی ایس ایل کو پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی بنانے کی منظوری دے دی تھی۔ایم کیو ایم پاکستان کے رکن قومی اسمبلی اور قومی اسمبلی کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کے رکن اقبال محمد علی نے اس معاملے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے پیٹرن ان چیف کو خط لکھ کر پی ایس ایل کی پرائیویٹائزیشن روکنے کی درخواست کی ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق انہوں نے وزیر اعظم کے نام خط میں لکھا کہ ہم نے ہندوستان اور بنگلہ دیش سمیت دنیا کے کسی بھی ملک میں ایسی مثال نہیں دیکھی کہ جس میں لیگ کو کرکٹ بورڈ سے الگ کردیا گیا اور اس عمل سے محض چند شخصیات کو فائدہ ہو گا۔رکن قومی اسمبلی نے موقف اختیار کیا کہ لیگ کی پرائیویٹائزیشن سے کرکٹ کا انفرااسٹرکچر تباہ ہو جائے گا اور انٹرنیشنل کرکٹ کے ساتھ ساتھ ڈومیسٹک کرکٹ پر بھی اس کے سنگین نتائج مرتب ہوں گے۔

انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر ایک دفعہ پی ایس ایل نجی کمپنی بن گئی تو کھلاڑی، کوچز اور مینجمنٹ انٹرنیشنل سطح پر کرکٹ کھیلنے کو ترجیح دینے کے بجائے پی ایس ایل میں زیادہ پیسہ کمانے کو ترجیح دیں گے۔اقبال محمد علی نے کرکٹ کھیلنے والے دنیا کے دیگر ملکوں کی مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ لیگ سے کرکٹ بورڈز کو فائدہ ہوتا ہے اور اس کے ثمرات ڈومیسٹک کرکٹ میں نظر آتے ہیں لیکن پرائیویٹائزیشن کے عمل سے پی سی بی کی ابتر مالی حالت میں کوئی بہتری نہیں آئے گی اور سیاسی طور پر بااثر افراد اپنی جیبیں بھریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ان حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے لیگ کی پرائیویٹائزیشن کا عمل پاکستان کرکٹ کیلئے خودکشی کے مترادف ہو گا اور عوام کے وسیع تر مفاد میں اس کی نجکاری سے بچا جائے۔یاد رہے کہ پی ایس ایل کا پہلا ایڈیشن رواں سال متحدہ عرب امارات میں منعقد ہوا جس میں کھیل کے معیار کو عالمی سطح پر بہت سراہا گیا تھا اور ماہرین کرکٹ نے پیش گوئی کی تھی کہ مستقبل میں یہ انڈین پریمیئر لیگ کو چیلنج کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔

پاکستان سپر لیگ کا دوسرا ایڈیشن آئندہ سال فروری میں منعقد ہو گا اور ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی کیلئے لیگ کا فائنل لاہور میں کرانے کا اعلان کیا گیا ہے۔

مصنف کے بارے میں