قونصل خانے پر حملے کے بعد حکومت کا پاکستان میں چینی باشندوں کی سکیورٹی پر نظرثانی کا فیصلہ

قونصل خانے پر حملے کے بعد حکومت کا پاکستان میں چینی باشندوں کی سکیورٹی پر نظرثانی کا فیصلہ
کیپشن: Image by China Pictorial


اسلام آباد:کراچی میں چینی قونصل خانے پر دہشتگردوں کی جانب سے حملے کے بعد حکومت نے پاکستان میں موجود تمام چینی باشندوں کی سکیورٹی پر نظر ثانی کا فیصلہ کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق حکومت نے پاکستان میں موجود سی پیک اور دیگر پراجیکٹس پر کام کرنے والے تمام چینی باشندوں کی سکیورٹی پر نظر ثانی کا فیصلہ کیا ہے اور اس حوالے سے وزارت داخلہ صوبائی حکومتوں کےساتھ کوآرڈینیشن کرےگی جبکہ سکیورٹی پلان میں مقامی پولیس کا کردار بھی موثر بنایا جائے گا۔

چین کے تمام پراجیکٹس کی سکیورٹی کےلئے سرویلینس بڑھانے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے، سی پیک اور دیگر منصوبوں پر کام کرنے والوں کی سکیورٹی سکریننگ کروائی جائے گی۔دوسری جانب پنجاب حکومت نے چینی شہریوں اور دیگر غیر ملکیوں کو اجنبیوں کے ساتھ سفر کرنے سے روکنے کےلئے فیصلہ کیا ہے، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ کی ہدایت پر پنجاب پولیس، سی ٹی ڈی ، اسپیشل برانچ، و دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔

سکیورٹی خدشات کے پیش نظر صوبہ بھر میں غیر ملکیوں اور قومی املاک و شخصیات کی سکیورٹی فول پروف بنانے کے احکامات از سر نو جاری کیے گئے ہیں، چینی شہریوں سمیت ، تمام غیر ملکیوں کی حفاظت کے پلان کو روزانہ کی بنیاد پر اپ گریڈ کیا جائے۔


غیر ملکی شہریوں کی نقل و حمل کے حوالے سے رپورٹس مرتب کی جائیں، غیر ملکی شہریوں کو اجنبی لوگوں کے ساتھ سفر کرنے سے روکا جائے، اس بارے میں ان کو آگاہی دی جائے اور مختلف شعبوں سے وابستہ ملکی شخصیات کو بھی سکیورٹی ایس او پیز پر پابندی کا پابند بنایا جائے جب کہ سرکاری دفاتر میں آنے والے مہمانوں اور سائلین کو اصل قومی شناختی کارڈ دیکھے بغیر داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔