زیادتی کیس سے متعلق قوانین متعارف کرانے سے واقعات کی روک تھام ہو گی، شبلی فراز

Pakistan,Shibili faraz,law, Covid-19,Rape cases, Government
فائل فوٹو

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ نواز شریف سمیت شریف خاندان کے تمام افراد کو ان کی والدہ کے جنازے میں شرکت کے لئے حکومت کی جانب سے کوئی پابندی نہیں ہے۔ اپوزیشن ملک میں وبا کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے اپنے جلسوں کو محدود کرے کیونکہ حکومت وبا کی روک تھام کےلئے تمام تر اقدامات بروئے کار لارہی ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ کے دوران کیا۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ وفاقی وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر اور وفاقی وزیر اکنامک افیرز خسرو بختیار بھی موجود تھے۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ حکومت نے میاں شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو 5 روز کے لئے پیرول پر رہائی کی منظوری دی ہے اسی طرح میاں نواز شریف سمیت ان کے بیٹوں اور خاندان کے دیگر افراد کو بھی پاکستان آنے کی اجازت ہے تاکہ وہ بھی مرحومہ کی نماز جنازہ میں شرکت کر سکیں۔ انہوں نے اپوزیشن رہنماﺅں سے مطالبہ کیا کہ ملک میں وبا کی سنگین صورتحال کے پیش نظر جلسوں کے پروگرام پر نظر ثانی کریں تاکہ اس موذی مرض کا مل کر مقابلہ کیا جا سکے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ وفاقی کابینہ نے ملک میں ریپ کے بڑھتے ہوئے کیسز پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے اور اس سلسلے میں قانون سازی کر کے آرڈیننس لانے کی منظوری دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے وزیر قانون کو ہدایت کی ہے کہ ملک میں معصوم بچیوں اور خواتین سے بدسلوکی کے واقعات کی روک تھام کے لئے سخت ترین سزاﺅں پر مشتمل قانون سازی کی جائے تاکہ ریپ کے ملزمان کسی صورت بھی سزا سے بچ نہ سکیں۔ اس موقع پر وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر نے کہا کہ بیرون ملک سے چینی کی درآمد اور کرشنگ سیزن شروع ہونے کے بعد چینی کی فی کلو قیمت میں 10 سے 12روپے تک کمی واقع ہوئی ہے اور اس میں مزید کمی واقع ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومتیں گنے کے کاشتکاروں کو ان کی فصل کی قیمت فوری طور پر ادا کرنے کے لئے بھی اقدامات کر رہی ہے اور اسی طرح مستقبل میں چینی کی قیمتوں کو متوازن رکھنے کے لئے شوگر ملز سمیت دیگر سٹیک ہولڈروں کے ساتھ مشاورت کر رہی ہے۔ درآمدی چینی یوٹیلیٹی سٹورز پر بھی عوام کو 68 روپے فی کلو کے حساب سے دستیاب ہو گی۔

اس موقع پر خسرو بختیار نے کہا کہ ملک میں گذشتہ دو سالوں سے گندم کی پیداوار میں کمی اور کھپت میں اضافے کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور اس کمی کو پورا کرنے کے لئے گندم درآمد کی جا رہی ہے جس سے گذشتہ 10 دنوں کے دوران گندم کی 40 کلو گرام بوری کی قیمت میں 200 روپے کی کمی واقع ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان کی خصوصی ہدایت پر گندم اور چینی سمیت دیگر اجناس کی قیمتوں پر نظر رکھنے کے لئے خصوصی کمیٹی قائم کی گئی ہے اور اس کمیٹی کی سفارشات کی وجہ سے اندرون ملک اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں کمی واقع ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں آٹے کی قیمتوں میں کمی نہ ہونے کی ذمہ دار سندھ حکومت ہے جو ابھی تک طے شدہ فارمولے کے تحت فلور ملز کو گندم فراہم کرنے کا ٹاسک پورا نہیں کر سکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے سندھ حکومت کی ضروریات کے پیش نظر گندم کا کوٹہ فراہم کیا ہے اب صوبے میں عوام کو کنٹرول نرخوں پر آٹے کی فراہمی ان کی ذمہ داری ہے۔ موجودہ حکومت نے کاشتکاروں کی بہتری کے لئے گندم کی آمدادی قیمت 1300 روپے سے بڑھا کر 1650 روپے کر دی ہے تاکہ کسان کو ان کی اجناس کا بہتر معاوضہ مل سکے اور اس اقدام سے اگلے سالوں کے دوران ملک میں گندم کی کاشت میں مزید اضافہ متوقع ہے۔