پارلیمنٹ کی رکنیت سے نااہل شخص سیاسی جماعت کا سربراہ نہیں بن سکتا

پارلیمنٹ کی رکنیت سے نااہل شخص سیاسی جماعت کا سربراہ نہیں بن سکتا

اسلام آباد: پارلیمنٹ کی رکنیت سےنااہل شخص سیاسی جماعت کاسربراہ نہیں بن سکتا، بل بھاری اکثریت سے سینیٹ  سے منظور  کر لیا گیا اب اس بل کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا ۔اپوزیشن کی جانب سے جب سینیٹ میں حال ہی میں منظور ہونے والے انتخابی اصلاحاتی بل پر مزید ترمیم کے لیے بل پیش کیا تو حکومت کی جانب سے اس کی مخالفت کی گئی۔

وزیر قانون زاہد حامد نے اس موقع پر کہا کہ ایوب خان کے دور میں نااہل شخص پر پارٹی سربراہ بننے کی پابندی لگائی گئی تھی جس کو ذوالفقار علی بھٹو کی جمہوری حکومت نے ختم کیا تھا اور اب بل میں ترمیم سے اپوزیشن آئین کے خلاف اقدام کر رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ 17 نومبر 2014 کو یہ شق ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا تو اس وقت پاناما کے حوالے سے کہیں ذکر نہیں تھا اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ یہ قانون ایک شخص کے لیے بنایا گیا ہے۔

وزیرقانون نے کہا کہ انتخابی اصلاحاتی بل کے لیے حزب اختلاف کی جانب سے 631 تجاویز دی گئی تھیں لیکن ان میں سے ایک تجویز بھی شق 203 سے متعلق نہیں آئی تھی لیکن اب اپوزیشن ڈکٹیٹر کے دور میں بنے قانون کو واپس لانا چاہتی ہے جس قانون کو انھیں کے خلاف استعمال ہونے کے لیے بنایا گیا تھا۔

بل کی منظوری کے لیے ووٹنگ ہوئی جہاں پر بل کی حمایت میں 49 اور مخالفت میں 18 ووٹ آنے کے بعد اپوزیشن بل منظور کروانے میں کامیاب ہوگئی۔بل کی حمایت میں فاٹا کے 5 ارکان نے اپوزیشن کی حمایت کی جبکہ پرویز رشید، مشاہداللہ خان، نثار محمد خان، سینیٹر مفتی عبدالستار ووٹنگ کے وقت غیر حاضر رہے، مذکورہ بل کے تحت پارلیمنٹ کی رکنیت کے لیے نااہل شخص کسی پارٹی کا عہدہ رکھنے کا بھی اہل نہیں ہوگا۔