عراق نے امریکہ کاایران کی تربیت یافتہ ملیشیاﺅں کو گھر بھیجنے کا مطالبہ مستردکردیا

بغداد :عراقی حکومت نے امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن کا ایران کی حمایت یافتہ ملیشیاوں اور نیم فوجی یونٹوں کی ملک میں جنگی کارروائیوں کے خاتمے اور انھیں ”گھروں “ کو بھیجنے سے متعلق مطالبہ مسترد کردیا ہے۔ریکس ٹیلرسن نے سعودی دارالحکومت الریاض میں اتوار کو عراقی وزیراعظم حیدر العبادی اور سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے ملاقات کے بعد کہا تھا کہ” اب وقت آگیا ہے،عراقی الحشد الشعبی یونٹوں ،شیعہ ملیشیاوں اور ان کے ایرانی مشیروں کو واپس گھروں کو بھیج دیا جائے۔

ان ملیشیاوں نے عراق کے شمال اور شمال مغربی علاقوں میں حالیہ مہینوں کے دوران میں داعش کے خلاف جنگ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔امریکا نے بھی اس جنگ میں عراق کی بھرپور حمایت کی ہے۔اب امریکا اس تشویش کا اظہار کررہا ہے کہ ایران عراق اور شام میں اپنی عسکری موجودگی کی وجہ سے خطے میں اپنا اثرورسوخ بڑھا سکتا ہے۔

عراقی وزیراعظم حیدر العبادی ریکس ٹیلرسن کے اس مطالبے کو تسلیم کرنے پر آمادہ نہیں۔ان کے دفتر کی جانب سے سوموار کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی فریق کو عراق کے داخلی امور میں مداخلت کا حق حاصل نہیں ہے۔تاہم اس بیان میں بہ ذات خود وزیراعظم کا ذکر نہیں ہے اور یہ ان کے ایک قریبی ”ذریعے“ سے منسوب کیا گیا ہے۔

الحشد الشعبی میں شامل ملیشیاوں کو ایرانی فوجیوں نے تربیت دی تھی اور انھوں نے شمالی شہر موصل اور دوسرے علاقوں کو داعش سے بازیاب کرانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔اس کے بعد انھیں نیم فوجی دستوں کا درجہ دے کر عراقی سرکار نے اپنا لیا تھا اور اب انھیں سرکاری خزانے سے تنخواہیں ادا کی جارہی ہیں۔

وزیراعظم کے دفتر کے بیان میں بھی اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ الحشد الشعبی محب وطن ہیں۔ تاہم عراق کے عرب سنی اور کرد سیاست دان ان ملیشیاو¿ں کو ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب کی ایک شاخ قرار دیتے ہیں۔ عراق کا پڑوسی ملک سعودی عرب بھی ایران کے اثر ورسوخ پر اپنی تشویش کا اظہار کرتا رہتا ہے۔